فیس کی ادائیگی اور دیگر تعلیمی اخراجات کیلئے نور جہاں نے ٹیوشن پڑھائے
بنگلور 20 مئی (پی ٹی آئی) بنگلور میں ایک غریب قصاب کی دختر نور جہاں کی زندگی میں گزشتہ چند روز سے خوشیوں اور شادمانیاں آئی ہیں۔ نور جہاں نے بنگلور یونیورسٹی سے آرگیانک کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کرتے ہوئے ٹاپر کیا ہے۔ اِنھیں 6 گولڈ میڈل حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ 5 سال کے دوران نور جہاں نے اپنی فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے سخت محنت کرنے کے علاوہ ٹیوشن بھی پڑھایا اور روز بروز گھریلو کام بھی انجام دیئے۔ جبکہ اِن کے والد عبدالرفیق اپنی دختر کی فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات کے لئے دن رات محنت کی۔ تاہم اِن کی سخت جانفشانی کے باوجود اپنی دختر کی اعلیٰ تعلیم کے لئے اخراجات پورے نہیں کرسکتے تھے۔ تعلیم میں اپنا ڈپلوما پورا کرنے کے بعد اپنے ارکان خاندان کی کفالت کیلئے نور جہاں نے ٹیچر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ لیکن وہ اپنی اعلیٰ تعلیم کے خوابوں کو ترک نہیں کیا بلکہ انھیں خوابوں کے سہارے اُنھوں نے ایک کالج میں داخلہ لیتے ہوئے بی ایس سی کی ڈگری تک تعلیم حاصل کی۔
اُنھوں نے یو جی سی اسکالرشپ اور ٹیوشنوں کے ذریعہ حاصل ہونے والی فیس کی مدد سے اپنی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات پورے کئے۔ نور جہاں نے کہاکہ میں نے ڈگری کورس پورا کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کی ہے۔ اِس کے لئے ٹیوشن پڑھائے اور یو جی سی اسکالرشپ حاصل کی۔ جندال فاؤنڈیشن نے بھی اِنھیں اسکالرشپ فراہم کی تھی۔ اِن کے عزائم کے بارے میں پوچھا گیا تو نور جہاں نے کہاکہ وہ ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرنے کے بجائے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اِن کے والد نے کہاکہ انھوں نے نور جہاں پر شادی کیلئے ہرگز دباؤ نہیں ڈالا بلکہ وہ پی ایچ ڈی پوری کرنے کیلئے اپنی بیٹی کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد کریں گے۔ عبدالرفیق نے کہاکہ میں بینگا پلی میں اپنے بھائی کی گوشت کی دوکان پر کام کرتا ہوں اور مجھے ماہانہ 6 ہزار روپئے تنخواہ ملتی ہے جو میری دختر کی اعلیٰ تعلیم کیلئے ناکافی ہے۔ تاہم میری دختر نے ہی ٹیوشن اور اسکالرشپ کے ذریعہ اپنی فیس کا انتظام کرلیا اور اعلیٰ تعلیم پوری کرلی ہے۔ نور جہاں کو بنگلور یونیورسٹی کے 49 ویں سالانہ کانوکیشن میں گولڈ میڈلس عطا کئے گئے۔