درخواست گذار ہراسانی کا شکار ، عہدیداران شکایت سننے تیار نہیں
حیدرآباد۔11مئی (سیاست نیوز) بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفتر کے باہر رشوت ستانی اور لائسنس بنانے کے لئے پہنچنے والوں کو ہراسانی کا عمل دوبارہ شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلہ میں متعدد شکایات انسداد رشوت ستانی اور محکمہ آر ٹی اے کے عہدیداروں کو موصول ہونے لگی ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران آر ٹی اے بندلہ گوڑہ میں گاڑیوں کے رجسٹریشن اسکام کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کے سبب ہر کوئی خاموش تھا اور ایجنٹس دفتر کا رخ نہیں کر رہے تھے کیونکہ دفتر کے اطراف میں محکمہ پولیس کا عملہ بالخصوص ٹاسک فورس اور انسداد رشوت ستانی کے عہدیداروں کی ہمہ وقت موجودگی نے بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں میں خوف پیدا کر رکھا تھا لیکن اب دوبارہ ساؤتھ زون کا یہ دفتر بدعنوانیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بننے لگا ہے اور اس دفتر میں عوامی شکایت کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آر ٹی اے میں رشوت ستانی کے معاملات کی شکایات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن بندلہ گوڑہ کے دفتر میں جو عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیںوہ عوامی شکایت سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں بلکہ شکایت کرنے کیلئے پہنچنے والے کو ایجنٹ کا پتہ دیتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ جو بھی کہنا ہے ان کے ذریعہ کہا جائے جبکہ شکایت کنندہ خود ایجنٹس کی ہراسانی کی شکایت کیلئے عہدیدار کے پاس پہنچا تھا۔ محکمہ آر ٹی اے کے عہدیداروں میں سدھار کیلئے ضروری ہے کہ ساؤتھ زون میں موجود آر ٹی اے دفتر پر کڑی نگاہ رکھی جائے کیونکہ اس دفتر میں عوام کو ایجنٹ کے بغیر داخل ہونے تک نہیں دیا جا رہاہے ۔ آر ٹی اے دفتر کے اطراف موجود ایجنٹس کا کہناہے کہ ان کی موجودگی عوام کیلئے سہولت کا باعث ہے اور ان کا یہ کہنا کچھ حد تک درست بھی ہے لیکن عہدیداروںسے راست رجوع ہونے پر عہدیداروں کی جانب سے ایجنٹس کے پاس دفتر سے رجوع ہونے والوں کو روانہ کیا جانا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ آر ٹی اے دفتر میں موجود کاؤنٹرس کے کناروں پر شیشے کی دوسری جانب باضابطہ ایجنٹس کھڑے رہتے ہیں اور اکثر ان ایجنٹس کی من مانی جاری ہے جن کے رشتہ دار دفتر میں عہدیدار بنے ہوئے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے تمام محکمہ جات سے رشوت کے خاتمہ کو یقینی بنانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن اگر بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفتر میں جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو کھلی چھوٹ فراہم کی جانے لگی ہے ۔ آر ٹی اے سے متعلق درخواست فارمس پر کرنے اور فیس کی ادائیگی کے علاوہ وقت حاصل کرنے کیلئے خانگی افراد کی جانب سے جو مراکز کھولے گئے ہیں ان مراکز کو بدعنوانیوں کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہاہے جبکہ آر ٹی اے بندلہ گوڑہ کے دفتر میں برسرعام رشوت کا چلن جاری ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے جس کے سبب عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔