کراچی 3 فروری (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان کے گڑ بڑ زدہ صوبہ بلوچستان کے بندرگاہی علاقہ میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے ایک ملازم اور پانچ دیگر ملازمین کو علحدہ علحدہ واقعات میں اغواء کرلیا ۔ دریں اثناء پولیس نے بتایا کہ پہلے واقعہ میں موٹر سائیکل پر سوار نقاب پوش بندوق بردار کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن گریڈ اسٹیشن میںداخل ہوگئے اور وہاں اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس میں ایک ملازم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ دوسرے واقعہ میں مسلح افراد نے شادی کو ر علاقہ میں محکمہ آبپاشی کے پانچ ملازمین کا اغواء کرلیا جو ایک ڈیم پراجکٹ پر کام کررہے تھے ۔ تمام مغویہ ملازمین کو نا معللوم مقام پر لیجایا گیا ہے ۔ دریں اثناء بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان نے ادعا کیا کہ اغواء کرنے میں ُان کا ہی ہاتھ ہے اور مغویہ افراد میں ایک اعلی سطحی انجینئر بھی ہے ۔ ترجمان سرباز بلوچ نے کل ایک ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اغواء دراصل صوبہ کی آزادی کیلئے چلائی جارہی مہم کے حصہ کے طور پر کیاگیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ شورش پسندوں نے سرکاری تنصیبات پر حملوں میں اصافہ کررہا ہے جہاں وہ یا تو سرکاری ملازمین کو ہلاک کردیتے ہیں یا ان کا اغواء کرلیتے ہیں۔