لکھنؤ: 19 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بلند شہر میں تین دسمبر کو گائے کے قبیل کے مویشیوں کے باقیات ملنے کے بعد بھیڑ کے اشتعال سے بھڑکے تشدد کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فوری کاروائی کے ذریعہ اس سازش کو ناکام کر کے ریاست کو فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جھلسنے سے بچا لیا۔ اسمبلی کے سنٹرل ہال میں منعقد پریس کانفرنس میں یوگی آدتیہ ناتھ نے چہارشنبہ کو کہا کہ بلند شہرکا واقعہ ریاست کو فرقہ وارنہ تشدد کی آگ میں جھونکنے کی ایک منظم سازش تھی جس سے قانون کے دائرے میں رہ کر ناکام بنا دیا گیا۔ یہ کام انہیں طاقتوں کا تھا جنہوں نے زہریلی شراب واقعہ کو انجام دیا تھا۔ اس معاملے میں کسی بھی بے قصور کو بخشانہیں جائے گا۔ اسمبلی میں بلند شہر معاملے پر ایکٹ 311 کے تحت بحث کرائے جانے کی اپوزیشن کے مطالبے کو بے جا قرار دیتے وہئے یوگی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس دراصل کوئی موضوع نہیں بچاہے اوروہ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے بے جا الزامات عائد کررہا ہے ۔ اس سے قبل اسمبلی میں بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے لیڈر لال جی ورما نے صحافیوں سے کہا کہ قانون و انتظام کو سنبھالنے میں ناکام یوگی حکومت بلند شہر کے واقعہ پر بحث کرانے سے دور بھاگ رہی ہے ۔ بلند شہر کا واقعہ بجرنگ دل اور بی جے پی کی منظم سازش کا نتیجہ ہے ۔ سیانا کوتوالی سبودھ کمار سنگھ کے قتل کو حادثہ بتا کر حکومت اپنا پلہ جھاڑنے میں لگی ہوئے ہے اس کی آڑ میں حکومت ملزموں کو بچانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے میعاد کار میں ریاست میں نظم ونسق کا نظام پٹری سے اتر چکا ہے ۔ اغوا، عصمت دری، خواتین کا استحصال، قتل سمیت دیگر مسائل میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے ۔ بی جے پی اور اس کے ماتحت تنظمیوں کے کارکن اب کھلے عام سیکورٹی دستوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپوزیشن 311 کے تحت نوٹس دیکر اسمبلی میں اس پرمذمت واقعہ پر بحث کا مطالبہ کر رہا تھا جسے ٹھکرا دیا گیا۔ اسمبلی ہاوس میں کانگریس کے لیڈراجے کمار للو نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے ریاست کو تشدد کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہے ۔ بلند شہر کے سیانا تحصیل میں پیش آیا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح سے بھیڑ حکومت پر حاوی ہوکر تشدد کو انجام دینا چاہ رہی تھی ناکام ہونے پر انسپکٹر سبودھ کمار کو قتل کردیا۔