بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی لاپرواہی سے عوام وبائی امراض کے شکار

ڈینگو کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ، مچھروں کی افزائش کو روکنے کوئی عملی اقدامات نہیں
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے متعدد اقدامات کے اعلان کے باوجود شہر حیدرآباد میں مچھروں کی کثرت پر قابو پانے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور شہر میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے جسے فوری طور پر روکنا انتہائی اہم ہے لیکن سیاسی قائدین اپنی انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ بلدی عہدیداروں کو بھی دی گئی انتخابی ذمہ داریوں کے سبب وہ بھی ان کاموں کی نگرانی سے قاصر نظر آرہے ہیں جس کا راست منفی اثر عوام کی صحت پر ہونے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں حالیہ عرصہ کے دوران مچھروں کی کثرت کی متعدد شکایات کے بعد کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر دانا کشور نے جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ شہر کے تمام علاقو ںمیں مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور عوام میں صحت عامہ کے متعلق شعور بیداری مہم چلائی جائے گی لیکن ا ن کے اس اجلاس کے باوجود تاحال شہر میں مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کے کوئی اقدامات نہیں کئے جانے کے سبب اب بھی مچھروں کی کثرت برقرار ہے۔ جی ایچ ایم سی میں موجود مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کا کہناہے کہ بلدیہ کی جانب سے جو ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے ان ادویات سے مچھروں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہورہی ہے اور اس بات سے اعلی عہدیداروں کو واقف کروایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اقدامات نہ کئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور لوگوں کو مچھرو ں کے سبب مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں بالخصوص تالابوںاور نالوں و ندی کے قریب والے محلہ جات و بستیوں میں مچھروں کی کثرت کے سبب عوام کئی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان بیماریوں میں سب سے اہم ڈینگو ہے جو کہ تیزی سے پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ڈینگو کے متاثرین کے خانگی دواخانوں میں علاج کروانے کے سبب جی ایچ ایم سی یا محکمہ صحت کو صحیح اعداد و شمار حاصل نہیں ہوپا رہے ہیں جبکہ شہر کے بیشتر خانگی دواخانوں میں ڈینگو کے مریض زیر علاج ہیں اس کے علاوہ وبائی امراض کے شکار کئی مریضوں کا آؤٹ پیشینٹ کی حیثیت سے علاج کیا جا رہاہے جن کی تعداد کا اندازہ لگایا جانا مشکل ہے۔