بلاگر کے قتل پر بنگلہ دیش میں احتجاج

ڈھاکہ ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سیکولر کارکنوں نے آج بنگلہ دیش کے شہر سلہٹ میں جلوس نکالا اور بلاگر کی جاریہ ہفتہ ہلاکت کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایسا تیسرا حملہ فبروری سے اب تک مشتبہ اسلام پسندوں نے کیا ہے۔ کئی کارکن جن میں سے بیشتر یونیورسٹی کے طلبہ تھے، بنگلہ دیش کے شمالی شہر میں پرامن احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہیکہ وہ مفکرین کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے اور سرکاری عہدیداروں پر زور دیا ہیکہ وہ ’’بدیع کی طاقت کو روکیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قتل سے ہمارے منہ بند نہیں کئے جاسکیں گے۔ احتجاجیوں نے اہم شاہراہ پر جلوس نکالتے ہوئے یہ چیلنج کیا۔ جلوس براہ سلہٹ یونیورسٹی نکالا گیا تھا جو سیکولر طلبہ کا مستحکم گڑھ سمجھی جاتی ہے۔ ایک سیکولر کارکن جو احتجاج میں شامل تھا، دیباشیش دیبو نے کہا کہ یہ تیسرا بلاگر تھا جو مسلم غالب آبادی والے ملک میں فبروری سے اب تک ہلاک کیا گیا ہے ۔ وہ بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری اویجیت رائے تھا جسے ڈھاکہ میں ہلاک کردیا گیا۔ اس ہلاکت پر بین الاقوامی سطح پر مذمتی پیغامات جاری کئے گئے۔ امریکہ نے کل بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ تازہ ترین قاتلوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کرنے کے اقدامات کرے۔