بغداد کے قریب گھمسان کی لڑائی، عراق کا وجود خطرہ میں : اقوام متحدہ

بغداد 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) عراق میں دہشت گردوں کی ایک ہفتہ سے جاری لڑائی اب دارالحکومت بغداد سے صرف 60 کیلو میٹر کے فاصلہ تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے وجود کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ اس دوران امریکہ نے بغداد میں اپنے سفارت خانہ کے تحفظ کے لئے زائد فوج تعینات کردی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف فضائی حملوں کے امکان کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے جنھوں نے دوسرے بڑے شہر موصل کے علاوہ بغداد کے ایک بڑے شمالی علاقہ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ عراقی عہدیداروں نے کہاکہ وہ جنگجوؤں کے خلاف نمایاں پیشرفت کررہے ہیں لیکن انھیں پسپائی ہورہی ہے۔ سرکاری فوج کو یہاں انتہائی طاقتور اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ لیونت (آئی ایس آئی ایل) سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس بحران نے ہزاروں افراد کو بے گھر کردیا ہے

اور یہ بھی اندیشہ ہے کہ تشدد کا اثر ملک میں تیل کی پیداوار پر مرتب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ سکیورٹی فورسیس کو جنگجوؤں کی دارالحکومت کی سمت پیشرفت میں ناکامی ہوگی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے آج کچھ وقفہ کیلئے باقوبہ پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ اس کے علاوہ تل عفر کے بڑے حصہ پر بھی قبضہ کرلیا جو شمالی عراق میں واقع ہے اور اس کی راہداری ملک شام سے ملتی ہے۔ باقوبہ پر کل رات حملہ کے بعد سکیورٹی فورسیس نے مزاحمت کی لیکن یہ لڑائی دارالحکومت کے قریب پہنچ گئی اور جنگجوؤں نے کہاکہ وہ بغداد اور جنوبی شہر کربلا کی سمت مارچ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تل عفر میں دہشت گردوں نے کئی حصوں پر کنٹرول کرلیا لیکن بعض مقامات پر مزاحمت جاری ہے۔ نینوا صوبائی کونسل کے نائب سربراہ نورالدین قہلانی نے بتایا کہ ایرپورٹ کے بعض حصوں میں سپاہی، پولیس اہلکار ار مسلح مقامی افراد موجود ہیں۔ دہشت گردوں کی بہ آسانی پیشرفت نے بین الاقوامی برادری کو چوکس کردیا ہے

اور اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے بغداد مائیکلے لیٹڈنوف نے خبردار کیاکہ عراق کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال عراق کیلئے انتہائی تباہ کن ہے اور وہ علاقہ کیلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عراق کی سالمیت کو حالیہ عرصہ کے دوران پہلی مرتبہ اِس قدر سنگین خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اِسی طرح کا ایک اور انتباہ عراق کے خودمختار کردستان علاقہ کے وزیراعظم نے دیا ہے۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 9 جون کو جو مہم شروع ہوئی ہے، اُس کے بعد حالات اِس قدر تباہ کن ہوگئے ہیں کہ اِن کا بحال ہونا اب ناممکن نظر آرہا ہے۔ مشرون برزانی نے کہاکہ وزیراعظم عراق نوری المالکی کے اقتدار میں رہنے تک اِس مسئلہ کا حل مشکل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اب ہم سب کو مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کس طرح متحد رہ سکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک عراق کے قدیم حالات کا تعلق ہے اُن کا خیال ہے اُن حالات کی واپسی اب ناممکن ہے۔ دہشت گردوں کی نمایاں پیشرفت اور کوئی مزاحمت نہ ہونے پر بیرونی ممالک نے اپنے شہریوں اور سفارتی اسٹاف کے تخلیہ کا عمل شروع کردیا ہے۔