بغداد پر قبضہ کرنے سُنّی جنگجو گروپ کا مارچ

بغداد۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) القاعدہ سے حوصلہ پانے والے عراق کے سُنّی جنگجو گروپ نے اس ہفتے 2 اہم سُنّی اکثریتی شہروں پر قبضے کے بعد بغداد پر کنٹرول حاصل کرنے کا عہد کرتے ہوئے اس جانب پیشقدمی کی ہے۔ جنگجو گروپ کی بڑھتی پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے عوام میں اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ شیعہ زیرقیادت حکومت ان جنگجوؤں پر قابو پانے کی اہل نہیں ہوگی۔ اسلامی ملک عراق کے جنگجو گروپ سے وابستہ مجاہدین نے سب سے پہلے معزول صدر صدام حسین کے آبائی وطن تکریت پر قبضہ کیا تھا جہاں پر کسی زمانے میں امریکی فوج کا کنٹرول تھا۔ یہاں کے سپاہیوں اور سکیورٹی فورس نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل پر قبضہ کے بعد اس گروپ نے اپنے حلیفوں کے ساتھ جن میں مقامی قبائیلی سردار بھی شامل ہیں، فلوجہ اور

دیگر سُنّی غلبہ والے صوبوں جیسے بغداد کے مغرب میں واقع صوبہ عنبر پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ بغداد میں چونکہ شیعوں کی کثیر آبادی ہے، اس پر قبضہ کرنا سُنّی جنگجوؤں کے لئے مشکل ہوگا۔ اب تک اسلامی جنگجوؤں نے سُنّی غلبہ والے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، کیونکہ یہاں پر شیعہ زیرقیادت حکومت کے خلاف بدظنی پیدا ہوگئی تھی اور اس پر الزام ہے کہ اس نے سُنّی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے بُرا برتاؤ کیا ہے۔ جنگجوؤں نے مزاحمت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ عراق کے کئی اہم شہر ’’اللہ اکبر‘‘ نعروں سے اُس وقت گونج اُٹھے جب سُنّی جنگجوؤں نے ایک کے بعد دیگر شہروں پر اپنا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے بغداد کی جانب کوچ کیا۔ بغداد پر پیش قدمی کو روکنے کیلئے شیعہ انتہا پسند گروپ مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس گروپ کو نہ صرف سرکاری افواج کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ شیعہ حکومت کی پولیس بھی سُنّی جنگجوؤں کو روکنے کیلئے چوکس ہے۔ اسی دوران اوباما نظم و نسق نے عراق میں پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کیلئے تمام اختیارات کا جائزہ لیا۔

شیعہ حکومت کی بھرپور مدد کرتے ہوئے سُنّی جہادیوں کو پیچھے ڈھکیل دیا جائے گا۔ عالمی برادری سے بھی ضرورت پڑنے پر مدد لی جائے گی۔ وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی ایبورٹ سے بات چیت کے بعد اوباما نے کہا کہ عراق کو اِس وقت ہماری جانب سے زیادہ سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے، لہٰذا میری ٹیم عراق کے بارے میں دن رات کام کررہی ہے۔ ہم عراقیوں کو موثر مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ اس بارے میں مَیں کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کرسکتا۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے تسلیم کیا ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورس جس پر واشنگٹن نے ٹریننگ کیلئے کئی ملین ڈالرس خرچ کئے ہیں، جہادی گروپ کا سامنا کرے گی۔ 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کی واپسی سے قبل عراقی فوج کو پوری طرح تیار کیا گیا ہے۔ اوباما نے کہا کہ ہماری قومی سلامتی ٹیم ، عراق کے اندر تمام اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔ روس نے کہا کہ اسلامی ملک عراق میں نئی تبدیلیاں غور طلب ہیں۔ القاعدہ قیادت کا صفایا کرنے کیلئے 2003ء میں امریکی زیرقیادت جنگ اس وقت بے فیض ثابت ہورہی ہے۔ یہ جنگ امریکہ میں 9/11 حملوں کے فوری بعد شروع کی گئی تھی۔ ترکی کی درخواست پر ناٹو افواج نے عراق کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ (ابتدائی خبر صفحہ 4 پر)