لکھنو ۔ 9 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ پر یوگا کے خلاف موقف اختیار کرنے کے سلسلہ میں مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی فلاح و بہبود مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ بعض مسلم مذہبی رہنماؤں کو ایک بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف یوگا کی مخالفت کر رہے ہیں بلکہ پورے فرقہ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یوگا کے ذریعہ ان کا بھی علاج کیا جانا چاہئے(کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ) ناواقفیت اور غلط فہمی کی بناء پر یوگا کی مخالفت کر رہا ہے۔ میں اس کے ارکان کو یوگا کرنے کا مشورہ دیتا ہوں تاکہ ان کی صحت بھی درست ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختانہ ہے کہ جو لوگ مذہب کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ، وہ مسلم فرقہ کو گمراہ کر رہے ہیں لیکن یہ طویل عرصہ تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔ بی جے پی کے کہنہ مشق قائد سوریہ نمسکار اور بھگوت گیتا کی اسکولی نصاب میں شمولیت کے بارے میں سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں علماء کو اپنی توانائی تعلیم پر، بااختیاری اور ملت کے مسائل کی یکسوئی پر صرف کرنا چاہئے، اس سے انہیں بھی مدد ملے گی اور ملک کو بھی۔یوگا کے خلاف فتویٰ کے بارے میں نقوی نے کہا کہ فتویٰ ایک ترکاری کی طرح ہے ، وہ بازار میں ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت ہوتی ہے۔ جو لوگ جو ترکاری خریدنا چاہتے ہیں ، خرید لیتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ فتوؤں کا احترام ختم کیا جارہا ہے۔