بس شیلٹر س کا صرف تجارتی ہورڈنگ کیلئے استعمال ،بلدیہ فائدے میں،مسافرین کو راحت نہیں!

حیدرآباد 17مارچ(سیاست نیوز) تقریباً دو سال قبل پرانے شہرکے مختلف مقامات پر نئے بس شیلٹر کی تعمیر عمل میں آئی تھی ،مگر عوامی سہولیات کو نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح نامناسب مقامات پر اسکی تعمیر کی گئی ہے اس سے عوام کوتو کوئی فائدہ نہیں ہو ا البتہ سر کاری خزانے کے لاکھوں روپے ضرور بربادکردئے گئے ۔ان بس شیلٹروںسے اگرکسی حد تک کسی کوفائدہواہے تووہ محکمہ بلدیہ ہے جو ان شیلٹروں کو تشہیری بورڈ یا ہورڈنگ کی حیثیت سے استعمال کرتے ہوئے لاکھوںروپے کمارہا ہے۔ دراصل پرانے شہر میںبیسیوں ایسے مقامات ہیں جہابس اسٹاپ توموجود ہیں مگر بس شیلٹرکا وجود ہی نہیں ہے جس سے مسافرین کو کھلے آسمان کے نیچے ٹہرنا پڑتاہے،جبکہ دوسری طرف برسوں کے مطالبے کے بعدجن مقامات پر بس شلٹر تعمیرکئے گئے ہیںوہ یا تو کاروباریوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں یا کچرا اورگند گی کامرکز ۔ ذرائع کے مطابق ، عیدگاہ چوراہا تاڑبن ،بہادرپورہ ،زوپارک ، دودھ باؤلی، شاشتری پورم موڑ،ورم گڈہ،شمع کالونی ،وٹے پلی ،چشمہ ،تیگل کنٹہ ،نواب صاحب کنٹہ ، چندرائن گٹہ چوراہا ،ذیشان ہوٹل،عافظ بابا نگر، شمشیرگنج، علی آباد ،لال دروازہ چوراہا ، شاہ علی بنڈہ وغیرجیسے مقامات پر بس اسٹاپ توموجود ہیں مگربرسوں سے یہاں بس شیلٹر کا نام ونشان نہیں ہے جس سے عوام کودھوپ میں ہی ٹہرنا پڑتاہے۔

اس حوالے سے متعلقہ محکمہ جات عموماً مناسب مقام کی عدم موجودگی کا بہانہ پیش کرتے ہیں،مگر نئے بس شیلٹرس کی جن مقامات پر تعمیرکی گئی ہے اسے کس طرح مناسب قرار دیا جاسکتاہے؟دارالشفاء کی طرف سے چارمینار جانے والی بس کے لئے مسافرین ابتدا سے ہی عزا خانہ زہرا بلڈنگ کے مقابل ٹہرتے رہے ہیں اور بس بھی یہیں پر ٹہرتی تھی مگر اس جگہ کے بجائے وہاں سے سو میٹردور قدیم ریلوے ریزرویشن کاؤنٹرکے پاس شیلٹرتعمیر کئے گئے ہیں جس سے ملک پیٹ اور دلسکھ نگر سے آنے والی یا جانے والی بس سے اترنے والے مسافرین کو چوراستے کے پاس اترکر مذکورہ بس اسٹاپ پر پہنچنے کیلئے ایک طویل فاصلہ پیدل طئے کرنا پڑتاہے جسکی وجہ سے زیادہ تر لوگ اتنی دور جاکرٹہرنا نہیں چاہتے ،نتیجتاً اس بس شیلٹر کے پاس مسافرتونہیں، صر ف کاروباری بنڈیاں نظر آتی ہیں ۔اس کے بعد درشہوار ہاسپٹل کے قریب بس شیلٹر بنایا گیا ہے جہاں کچرہ اورگندہ پانی جمع رہتاہے جسے آج تک مسافرین نے استعمال نہیں کیا ہے ۔اسی طرح شاہ علی بنڈ ہ چوراستے پردونوں طرف بس شیلٹرکا تو خیر وجود ہی نہیں تاہم ایک جانب یعنی فلک نما کی طرف جانے والی روٹ پر بس اسٹاپ موجود ہے مگردوسری طرف افضل گنج ،مہدی پٹنم اورعابڈس وغیرہ جانے والی بس کیلئے جو بس شیلٹربنا یا گیا ہے وہ شاہ علی بنڈہ چوراستہ سے کم ازکم دو تاڈھائی سو میٹردور والگا ہوٹل کے پاس بنایا گیا ہے۔

یہ بس اسٹاپ ،فتح دروازہ قاضی پور ہ کی طرف سے آنے والے مسافرین کے لئے کچھ حدتک سہولت بخش ہوسکتاہے مگر مختلف مقامات سے آکرشاہ علی بنڈہ چورستے کے پاس اترکراپنی بس تبدیل کرنے اور سوار ہونے والے مسافرین خاص کرخواتین اور طالبات کوکس قدر پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑرہا ہے اس کا اندازہ تو وہی کرسکتی ہیں ۔یہاں سے تھوڑی دور کے بعد خلوت بس اسٹاپ کے پاس جو بس شیلٹرتعمیرکیا گیا ہے وہا ں کچرے کی دوتین کنڈیاں رکھی ہوئی ہیں جس سے بدبو اور تعفن کا ایک خطرناک ماحول بناہوارہتاہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں موجود چومحلہ پیالس میں روزانہ سینکڑوں سیاح آتے ہیں ،ان پر ایسے ماحول کا کتنا منفی اثر پڑتاہوگااس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ دوسری طرف معظم جاہی مارکٹ چوراہا کے پاس کوٹھی سے نامپلی کی طرف جانے والی اورعابڈس سے افضل گنج کی طرف جانے والی بس کیلئے کم ازکم’ بس اسٹاپ‘ کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی ہے،جہاںسے بس اسٹاپس کی عدم موجودگی سے مسافرین کو آٹوڈرائیورکے استحصال کا سامناہے۔مسافرین کا کہنا ہے کہ بس اسٹاپ کے مقام پرجہاںجگہ دستیاب نہیں ہے وہاں یہ مجبوری قابل فہم ہے مگرجن مقامات پرشیلٹرتعمیرکئے گئے اس میں بھی مسافرین کی سہولت کا خیال نہیں رکھا گیا ہے انکے مطابق، یہ بس شیلٹر س صرف اشتہاری پلیٹ فارم کی حیثیت سے محکمہ بلدیہ کی آمدنی کا ذریعہ ضرور بناہواہے۔