بس شلٹرس کو عصری بنانے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

اندرون چھ ماہ ترقی کا وعدہ دھرا کا دھرا رہ گیا ، ٹنڈرس کے باوجود کاموں کی عدم تکمیل
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ بلدی نظم و نسق کی نگرانی میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں 826عصری بس شیلٹرس کی اندرون 6ماہ تعمیر کو ممکن بنانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس اعلان پر عمل آوری کے نام پر اب تک صرف 10تا12 بس شیلٹرس کی تعمیر ہی ممکن ہو پائی ہے جبکہ ان میں ایک بھی بس شیلٹر پرانے شہر میں قائم نہیں کیا گیا بلکہ پرانے شہر میں موجود مصروف ترین بس شیلٹرس کی حالت جوں کی توں برقرار ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر حیدرآباد کی سڑکوں پر خوبصورت بس شیلٹرس کی تعمیر کے سلسلہ میں ٹنڈر طلب کرنے کے بعد تعمیراتی کاموں کی تفویض بھی عمل میں لائی جا چکی ہے لیکن ان تعمیری کاموں کے سلسلہ میں کوئی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں اور پرانے شہر میں کسی ایک بھی بس شیلٹر کو عصری و خوبصورت بنانے کے اقدامات کا آغاز نہیں ہو پایا ہے۔ اپریل کے دوران جی ایچ ایم سی نے اعلان کیا تھا کہ اختتام اپریل تک 12 بس شیلٹرس کی تعمیر کو مکمل کرلیا جائے گا ۔ جی ایچ ایم سی کے اس منصوبہ پر مادھا پور‘ گچی باؤلی‘ بشیر باغ ‘ عابڈز‘ سوماجی گوڑہ پر کچھ حد تک عمل آوری دیکھی گئی لیکن پرانے شہر کو اس منصوبہ میں اب تک یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ ماہ مئی کے دوران ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راماراؤ نے شہر حیدرآباد کے پہلے ائیر کنڈیشن بس شیلٹر کا افتتاح انجام دیا اور اس افتتاح کے بعد سے نئے بس شیلٹر کی تعمیر کا عمل روک دیا گیا ہے اور شہر کے کسی بھی مقام پر یہ سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں۔ شہر حیدرآباد کو خوبصورت بنانے اور شہر یوں بالخصوص بس مسافرین کو اعلی و معیاری سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے طورپر 826 عصری بس شیلٹرس کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں دفتری امور و منظوریاں بھی دی جا چکی ہیں ۔پرانے شہر کے مصروف ترین بس اسٹاپس میں خلوت‘ حسینی علم‘ شاہ علی بنڈہ‘ دارالشفاء ‘ مغلپورہ اور دیگر مقامات شامل ہیں جہاں سے بس مسافرین کی بڑی تعداد اپنی اپنی منزلوں کیلئے بسوں کا انتخاب کرتی ہے لیکن ان کیلئے کوئی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں اور کئی مقامات پر بس شیلٹر بھی موجود نہ ہونے کے سبب مسافرین کو سڑک پر کھڑے کھڑے ہی اپنی بس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اسی لئے نہ صرف مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد بلکہ محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو بھی اس سلسلہ میں توجہ مرکوز کرتے ہوئے بس مسافرین کو سہولتوں کی فراہمی میں دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔