حیدرآباد۔ 17 اپریل (سیاست نیوز ) عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے حیدرآباد میں تین ماہ قبل بستی دواخانوں کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن اس کے عملے کو آج تک تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ بستی دواخانوں میں جہاں روزانہ کئی مریضوں کو ابتدائی طبی امداد اورتشخیص کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن ان بستی دواخانوں میں عوام کے لیے اپنی خدمات انجام دینے والے طبی عملے کے مسائل روز بروز سنگین ہو رہے ہیں جیسا کہ جنوری میں ان بستی دواخانوں میں طبی عملے کا انتخاب عمل میں آیا لیکن تین ماہ سے انہیں تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ شہر حیدرآباد میں بستی دواخانوں کا قیام دراصل دہلی میں محلہ کلینک کے کامیاب تجربے کے بعد تلنگانہ حکومت کی جانب سے کیا جانے والا اقدام ہے ، جس کے تحت ہر دس ہزار عوام کے لیے ایک بستی دواخانے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔بستی دواخانے میں بنیادی طبی سہولیات ،لیب میں تشخیص اور مفت دوائیں فراہم کی جاتی ہیں ،جہاں روزانہ 70 تا 80 مریض ان دواخانوں سے رجوع ہوتے ہیں۔ حکام نے مزید کہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں بستی دواخانہ کے کامیاب تجربے کے بعد اب اس طرح کے دواخانہ ورنگل ،کریم نگر، نظام آباد، کھمم اور راما گنڈم میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے کہ وہ بستی دواخانوں کے عملے اور عمارت میں موجود داخلی اور خارجی مسائل کی یکسوئی فوری طور پر کریں۔