محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے وباء پر قابو پانے کی مساعی
حیدرآباد ۔ /12 مئی(سیاست نیوز) ’’ریاست میں پولٹری صنعت کو بھاری خطرہ ہے ‘‘؟ حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں پھوٹنے والی برڈفلو کی وباء ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی ۔ گزشتہ یوم حیات نگر منڈل میں مزید 1700 مرغیوں کی ہلاکت کے بعد حیدرآباد میں برڈ فلو کے خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک ہفتہ کے دوران زائد از 3 ہزار مرغیوں کی موت کے بعد عوام میں مزید خوف پیدا ہوگیا ہے چونکہ مذکورہ علاقوں میں موجود پولٹری فارمس میں مرغیوں کی ہلاکت تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ تلنگانہ محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے مکمل طور پر برڈفلو کے ختم ہونے کی توثیق نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ برڈفلو کے خدشات اب بھی برقرار ہیں ۔ محکمہ کی جانب سے اختیار کردہ اس موقف کے سبب عوام بالخصوص تاجرین مرغ میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے دوشنبہ کو ہوئی مرغیوں کی ہلاکت کے بعد ایک مرتبہ پھر نمونے برڈفلو کی جانچ کیلئے بھوپال روانہ کردیئے گئے ہیں ۔ اور حیات نگر کے علاقوں سے مرغیوں و انڈوں کی حمل و نقل پر روک لگادی گئی ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب تاجرین مرغ کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ برڈفلو جس علاقے میں ہے صرف اسی علاقے کو متاثرہ قرار دیا جائے اور محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے کسی قسم کا خوف و دہشت کا ماحول نہ پیدا کیا جائے ۔ محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انڈوں و مرغیوں کی حمل و نقل کے سبب برڈ فلو کی وفا تیزی سے پھیل سکتی ہے ۔ اسی لئے حیات نگر کے اطراف 10 کیلو میٹر کے احاطہ میں انڈوں اور مرغیوں کی حمل و نقل پر امتناع عائد کیا جاچکا ہے ۔ پولٹری کے ٹھوک بیوپاری مرغیوں میں پھیل رہی بیماریوں کے باوجود قیمت میں کمی نہ لاتے ہوئے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس طرح کی بیماریوں سے کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے بلکہ مرغی کی کھپت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ ٹھوک تاجرین کے ان اقدامات سے عوام گمراہی کا شکار ہورہے ہیں جبکہ ریٹیل تاجرین اس طرح کی کارروائیوں سے عاجز آچکے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ جلد از جلد بھوپال روانہ کردہ مرغیوں کی جانچ کی رپورٹ وصول ہوجائے تاکہ محکمہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر کوئی کارروائی کی جاسکے ۔ گزشتہ ماہ بڑے پیمانے پر کی گئی کارروائیوں کے دوران محکمہ نے زائد از ایک لاکھ مرغیوں و انڈوں کو تلف کرتے ہوئے شہریان حیدرآباد کو اس مہلک بیماری سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن چند یوم بعد ہی پولٹری صنعت سے وابستہ بڑے تاجرین نے شہر میں نمائشی مرغ میلہ منعقد کرتے ہوئے عوام میں پھیلے خوف کے ماحول کو دور کرنے کی کوشش کی لیکن گزشتہ ہفتہ ہوئی مرغیوں کی ہلاکتوں میں اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ محکمہ افزائش مویشیان کی جانب سے جاری کردہ انتباہ درست تھا اور 30 یوم تک اس علاقے میں برڈفلو کے اثرات برقرار رہنے کے خدشات غلط نہیں تھے ۔