برقی کے مسئلہ پر منقسمہ ریاستوں میں ٹکراؤ

حیدرآباد ۔ 18 جون (سیاست نیوز) برقی کے مسئلہ پر آندھرا اور تلنگانہ حکومت میں ٹھن گئی ہے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تمام برقی معاہدوں کو منسوخ کرنے پر زور دیا ہے جس کی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو تقسیم ریاست بل کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ آندھرا اور تلنگانہ کی حکومتی برقی کے مسئلہ پر آمنے سامنے ہوگئی ہے اور ہر حکومت اپنے اپنے ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ آندھراپردیش حکومت نے جینکو کو ہدایت دی ہیکہ جن علاقوں کے برقی پراجکٹس انہیں علاقوں کو برقی سربراہ کریں ماضی میں جو بھی معاہدے ہوئے تھے ان تمام کو منسوخ کردیا جائے۔ اے پی جینکو نے برقی ریگولیٹری اتھاریٹی کو مکتوب کرتے ہوئے تمام (پی پی اے) منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ معاہدے منسوخ ہوتے ہیں تو تلنگانہ کو برقی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر نئے برقی معاہدے کرنے پڑیں گے۔ اگر برقی معاہدے منسوخ ہوجاتے ہیں تو آندھراپردیش کو تھرمل پاور کے ذریعہ پیدا ہونے والی 426 میگاواٹ برقی کا فائدہ ہوگا اور اس سے تلنگانہ ریاست محروم ہوجائے گی۔

ریاست کی تقسیم کے موقع پر برقی تقسیم کو بھی اہمیت دی گئی۔ تلنگانہ ڈسکام کو 53.89 اور آندھراپردیش کو 46.11 فیصد برقی مختص کی گئی تھی۔ اس طرح کے احکامات کی اجرائی کے بعد آندھراپردیش حکومت نے اپنے نقصانات کو بچانے کیلئے برقی کے معاہدوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں آندھراپردیش کابینہ کا پہلا اجلاس وشاکھاپٹنم میں منعقد ہوا تھا، جس میں بیشتر وزراء نے اس کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد برقی کے تمام معاہدوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت نے فیس ریمبرسمنٹ کے معاملے میں صرف تلنگانہ کے طلبہ کی فیس ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آندھرا اور رائلسیما کے طلبہ کی فیس آندھرا حکومت کو ادا کرنے پر زور دیا ہے، جس کے جواب میں آندھراپردیش حکومت نے برقی معاہدوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کے قائد اپوزیشن مسٹر کے جاناریڈی نے آندھراپردیش حکومت کے تازہ فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تلگو عوام ایک ہے صرف سرحدیں تقسیم ہوئی ہے۔ دونوں حکومتیں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
کانگریس بھی اس کے خلاف الیکٹرسٹی کمیشن سے رجوع ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر عدلیہ سے بھی رجوع ہوگی۔