برقی کی صورتحال پر عوام کو حکومت کے خوش کن تیقنات

حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں آج برقی کی صورتحال پر گرما گرم مباحث ہوئے۔ اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی نے آئندہ تین برسوں میں برقی قلت پر قابو پانے سے متعلق حکومت کے دعوؤں کو ناقابل عمل قرار دیا اور کہا کہ اعداد و شمار کے ذریعہ عوام کو خوش فہمی میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ وزیر آبپاشی و برقی ٹی ہریش راؤ کے جواب کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت برقی کی پیداوار اور خریدی کے سلسلہ میں جن منصوبوں کا اعلان کر رہی ہے، وہ ناقابل عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برقی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کئی ہزار کروڑ کا اعلان کر رہی ہے جبکہ بجٹ میں برقی کیلئے مختص کردہ رقم ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے برقی کی حصہ داری کے حصول اور پڑوسی ریاستوں سے برقی خریدی کے باوجود آئندہ تین برسوں میں بحران پر قابو پایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے موقع پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مختلف شعبوں میں تلنگانہ کو مناسب حصہ داری دی اور اسے قانونی شکل دی گئی۔ تنظیم جدید بل نے این ٹی پی سی سے 4000 میگاواٹ برقی تلنگانہ کو الاٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے کئے گئے معاہدے کے باوجود تلنگانہ کو ایک ہزار میگاواٹ برقی سربراہی میں تین سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ محمد علی شبیر نے پیشکش کی کہ تلنگانہ کو برقی بحران سے نجات دلانے کیلئے کانگریس پارٹی مکمل تعاون کرے گی۔

نئی دہلی میں مرکزی حکومت سے نمائندگی اور تلنگانہ سے انصاف کیلئے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اپوزیشن قائدین کے ساتھ نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام جماعتوں سے تعاون حاصل کرنا چاہئے ۔ بی ایچ ای ایل سے 270 میگاواٹ کے 6 پلانٹس کے قیام کے معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ 270 میگاواٹ قدیم ٹکنالوجی کا حصہ ہے جبکہ فی الوقت 800 میگاواٹ کا رواج ہے۔ بی ایچ ای ایل سے کئے گئے معاہدہ کے مطابق تلنگانہ کے برقی بحران سے نمٹنے میں مدد نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس قدیم سسٹم سے سرکاری خزانہ پر بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 6000 میگاواٹ برقی کی تیاری کیلئے 35,000 کروڑ درکار ہیں جبکہ بجٹ میں برقی شعبہ کیلئے صرف ایک ہزار کروڑ مختص کئے گئے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے حقائق سے آگاہ کرے۔