حیدرآباد ۔ 18 جون (پی ٹی آئی) توانائی تقسیم و سربراہ کرنے والی کمپنیوں سے طئے شدہ توانائی کی خریدی کے سمجھوتوں کو منسوخ کرنے حکومت آندھراپردیش کی کوششوں پر حکومت تلنگانہ نے سخت برہمی کے ساتھ اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اور جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ تلنگانہ کے وزیرآبپاشی ٹی ہریش راؤ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’حیدرآباد مشترکہ دارالحکومت ہے۔ آپ (آندھراپردیش) کے سکریٹریٹ اور اسمبلی یہاں سے کام کرتے ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو اپنے گھروں کیلئے برقی کی ضرورت نہیں ہے؟‘‘۔ مسٹر ہریش راؤ ان اطلاعات پر برہم ردعمل کا اظہار کررہے تھے کہ (نئی) حکومت آندھراپردیش نے آندھراپردیش الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن سے توانائی کی خریدی کے وہ تمام سمجھوتے (پی پی اے) منسوخ کرنے کی خواہش کی ہے
جو سابق متحدہ ریاست میں توانائی تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے کئے گئے تھے۔ حکومت آندھراپردیش نے اس بات کو یقینی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہیکہ ریاست میں پیدا کی جانے والی برقی اسی ریاست میں استعمال کی جائے اور اس نے یہ استدلال پیش کیا کہ زائد برقی کی پیداوار کی صورت میں بھی وہ زائد برقی کا استعمال نہیں کرے گی۔ تاہم باور کیا جاتا ہیکہ حکومت آندھراپردیش کے اقدام سے تلنگانہ میں پہلے سے جاری برقی کی قلت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کے بھانجے ہریش راؤ نے حکومت آندھراپردیش کے اس فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس فیصلہ سے فی الفور دستبرداری اختیار کی جائے۔ حکومت آندھراپردیش کے اس فیصلہ سے دو تلگو ریاستوں کے تعلقات مزید متاثر ہوجائیں گے۔ آبپاشی کے پولاورم پراجکٹ کے ضمن میں تلنگانہ کے ضلع کھمم کے سات منڈلوں کی سیما آندھرا کو منتقلی پر حکومت تلنگانہ پہلے ہی چراغ پا ہے۔