نئی دہلی 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ بعد عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت نے اپنی کامیابیوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں برقی شرحوں میں 50 فیصد تک کی کٹوتی ‘ مفت پانی کی سربراہی اور ویاٹ کی ادائیگی کو سہل بنانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی حکومت کے ایک ماہ کی تکمیل کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیہ نے کہا کہ حکمرانی کا ان کا تجربہ بہترین رہا ہے اور حکومت پورے اعتماد کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ سیسوڈیہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ حکومت کے کام کاج میں اصلاحات لانے پر توجہ کے ساتھ مصروفیت رہی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مکمل استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ حکومت نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران برقی بلوں کو نصف کرتے ہوئے اور مفت پانی کی سربراہی جیسے بڑے فیصلے بھی کئے ہیں۔ 25 فبروری کو دہلی میں اروند کجریوال کی زیر قیادت حکومت نے 400 یونٹ تک برقی کے استعمال پر بلوں کو نصف کردینے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی دہلی کے تمام گھروں کو ماہانہ 20 ہزار لیٹر پانی کی مفت سربراہی کا اعلان کیا تھا ۔ حکومت کے ان اقدامات پر سرکاری خزانہ پر 1,670 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔ مسٹر سیسوڈیہ نے کہا کہ مفت پانی کی اس اسکیم کو گروپ ہاوزنگ سوسائیٹیز تک بھی وسعت دیدی گئی ہے
اور سیوریج چارجس کو بھی برخواست کردیا گیا ہے ۔ حکومت نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنی انسداد کرپشن ہیلپ لائین کو از سر نو متحرک کریگی جس کا عام آدمی پارٹی کی سابقہ حکومت میں آغاز عمل میں آیا تھا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ گذشتہ تقریبا دو سال سے ایک لاکھ سے زیادہ وظیفہ پیرانہ سالہ کے استفادہ کنندگان توثیق کیلئے منتظر ہیں ۔ عام آدمی پارٹی نے توثیق کے اس عمل کو تیز تر کردیا ہے اور اب تک 50 ہزار استفادہ کنندگان کی توثیق کرکے 30 ہزار استفادہ کنندگان میں وظیفہ تقسیم بھی کردیا گیا ہے ۔ مابقی 20 ہزار استفادہ کنندگان میں وظیفہ کی رقم آئندہ دو ماہ میں جاری کردی جائیگی ۔ دوسرے استفادہ کنندگان کی توثیق کا عمل بھی بہت جلد مکمل کرلیا جائیگا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے سابق دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سربراہ بجیندر سنگھ کی قیادت میں الیکٹریسٹی صورتحال پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ سیسوڈیہ نے کہا کہ دہلی کی حکومت نے ویاٹ کی باز ادائیگی کے عمل کو آگے برھانے کا فیصلہ کیا ہے اور R9 فارم کے ادخال کی تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹامپس کی فروخت کے لائسنس اب آن لائین جاری کئے جائیں گے ۔
خانگی اسکولس میں غیر معمولی فیس کی وصولی کے عمل کو روکنے کی ایک کوشش کے طور پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تقریبا 200 خانگی اسکولس کو بے تحاشہ فیس وصول کرنے کی پاداش میں وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ حکومت کے بموجب اس نے اپنے تمام 1,000 اسکولس میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عمل بھی شروع کردیا ہے ۔ ومیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے اب تک 20,800 ای رکشا لائسنس بھی جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک آنگن واڑی ورکرس کو اپنے آنگن واڑی احاطہ کیلئے فی ماہ 750 روپئے کرایہ ملتا تھا تاہم اب اسے بڑھا کر چار تا پانچ ہزار روپئے کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ آنگن واڑی مٹیرئیل ایف سی آئی سے راست خریدا جا رہا ہے اور جو فاضل رقم دستیاب رہیگی اسے بچوں کو میوہ جات فراہم کرنے پر خرچ کیا جائیگا ۔ آلودگی کی سطح کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ آلودگی کو روکنے کیلئے عام آدمی پارٹی کی حکومت نے 66 پولیوشن کنٹرول مراکز پر اچانک دھاوے کئے ہیں ان میں 18 مراکز ایسے تھے جو قواعد کے مطابق کام نہیں کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی فارنسک لیبس بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خانگی لیبس پر محکمہ صحت کی جانب سے بھی اچانک دھاوے کئے گئے ہیں۔