برقی بحران سے کسانوں کو شدید نقصان

نئے تعلیمی سال سے نصاب میں تلنگانہ کو شامل کرنے کی اپیل ، ٹی آر ایس قائدین کی گورنر سے نمائندگی

حیدرآباد ۔24 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ایک وفد نے آج گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کی اور تلنگانہ کو درپیش مختلف مسائل پر نمائندگی کی۔ فلور لیڈر ای راجندر کی قیادت میں ٹی آر ایس قائدین کے وفد نے تلنگانہ میں برقی بحران کے سبب کسانوں کو درپیش مسائل سے واقف کرایا۔ قائدین نے آئندہ تعلیمی سال سے تلنگانہ ریاست کے سرکاری تعلیمی نصاب میں تلنگانہ تحریک کو بطور مضمون شامل کرنے کی بھی درخواست کی ۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ای راجندر نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں کو کم از کم 7 گھنٹے برقی کی سربراہی یقینی بنانے کی گورنر سے درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نام پر برقی کے عہدیدار کسانوں کے ساتھ جانبداری کا سلوک کر رہے ہیں۔ برقی سربراہی کے سلسلہ میں زرعی شعبہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بمشکل 5 گھنٹے بھی برقی سربراہ نہیں کی جارہی ہے جس کے باعث فصلوں کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برقی سربراہی کو انتخابی ضابطہ اخلاق سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کو نقصان کی صورت میں ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ لہذا گورنر سے درخواست کی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں برقی عہدیداروں کو ہدایت جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا کے مقابلہ میں تلنگانہ کے کسان آبپاشی شعبہ میں عہدیداروں کی غفلت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر موسمی بارش کے سبب گزشتہ دو ماہ کے دوران فصلوں کو بھاری نقصانات ہوئے۔ انہوں نے متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ ایک طویل جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست کے حصول میں کامیابی ملی ہے، لہذا آئندہ تعلیمی سال سے تلنگانہ کے سرکاری نصاب میں اس کو بحیثیت مضمون شامل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں افراد نے علحدہ ریاست کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں اور ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ ملک کی تاریخ میں تلنگانہ کی جدوجہد اپنی مثال آپ ہے جو عدم تشدد پر مبنی رہی اور عوام نے تلنگانہ ریاست کے حصول کے بعد ہی چین کی سانس لی ۔ اس طرح اس تاریخی جدوجہد کو تعلیمی نصاب میں شامل کرتے ہوئے آنے والے نسلوں کو واقف کرانے کی ضرورت ہے۔