نئی دہلی 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے گورنر اترا کھنڈ ڈاکٹر عزیز قریشی کی جانب سے داخل کردہ درخواست رٹ پر مرکز کونوٹس جاری کی ہے ۔ گورنر کی حیثیت سے استعفی دینے کیلئے مرکزی معتمد داخلہ کے زبانی دباو اور ہدایت کو چیلنج کرتے ہوئے عزیز قریشی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں ۔ مودی حکومت کی جانب سے گورنروں کو برطرف کرنے کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے عزیز قریشی نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی جس پر چیف جسٹس آر ایم لودھا،جسٹس تورین جوزف اور جسٹس روہئن نریمن پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے مرکز کو 6 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے عزیز قریشی کی درخواست کی سماعت کی ہے ۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے سینئر وکلاء اور سابق وزراء کپل سبل اور سلمان خورشید کی بحث کی سماعت کی جس میں دونوں وکلاء نے معتمد داخلہ انیل گوسوامی کے رول پر سوال اٹھایا ہے اور کہا کہ دستور کے آرٹیکل 156 سے متعلق جب معاملہ سامنے آیا ہے تو اس کیس کی سماعت پانچ رکنی دستوری بنچ کو کرنی ہوگی ۔ دستور کے آرٹیکل 156 میں مداخلت (ایک گورنر کی برطرفی میں صدر جمہوریہ کی منظوری سے مربوط ہے) تو یہ معاملہ دستوری بنچ کے ہی سپرد ہونا چاہئے ۔ کپل سبل نے کہا کہ 30 جولائی کو معتمد داخلہ نے گورنر کو فون کیا اور انہیں استعفی کیلئے زور دیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر انہوں نے (عزیز قریشی) استعفی نہیں دیا تو انہیں برطرف کردیا جائے گا جبکہ گورنر کو عہدہ پر برقرار رکھنا یا ہٹادیا جانے کا اختیار صرف صدر جمہوریہ کو حاصل ہے ۔ جب صدر جمہوریہ کی موجودگی میں دستوری عہدہ پر گورنر فائز ہیں تو معتمد داخلہ گورنر کو استعفی کیلئے زور نہیں دے سکتے ۔ عزیز قریشی نے اپنی درخواست میںکہا کہ معتمد داخلہ کو انہیں استعفی کیلئے کہنے کا کوئی قانونی حق یا اتھاریٹی حاصل نہیں ہے ۔