لندن 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک نئے تخلیقی اقدام میں برطانیہ میں بینکوں کی جانب سے بہت جلد اپنے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے کہ وہ انہیں ملنے والے چیکس راست بینک پہونچ کر جمع کروانے کی بجائے اپنے اسمارٹ فونس کے ذریعہ صرف تصویر ہی روانہ کردیں۔ کہا گیا ہے کہ اس نئی تجویز کے مطابق صارفین کو اب راست بینک جا کر شخصی طور پر چیک جمع کروانے کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔ اس کی بجائے یہ صارفین اب اپنے اسمارٹ فون سے اس چیک کی تصویر لے کر اسے بینک کو آن لائین روانہ کردیں۔ ایسا کرنے پربھی بینکوں میں رقومات ادا کردی جائیں گی۔حکومت کی جانب سے اس تجویز پر تبادلہ خیال کا آغاز کیا جا رہا ہے اور درکار قانونی تبدیلیوں کیلئے بھی مشاورت شروع ہوگئی ہے ۔ بی بی سی نے آج یہ اطلاع دی ۔ کہا گیا ہے کہ ایسی ٹکنالوجی تیار کی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں دو دن کے اندر چیکس کے کلئیرنس کو یقینی بنایا جائیگا ۔ فی الحال چیکس کلئیرنس کیلئے چھ دن کا وقت لیا جاتا ہے ۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ نئے ٹرانسفر طریقہ کار سے عوام اور صارفین کو زیادہ سہولتیں ہونگی اور یہ زیادہ محفوظ بھی رہے گا ۔ چیف ایگزیکیٹیو بارکلیز کا کہنا ہے کہ اس تخلیقی کوشش کے نتیجہ میں صارفین کو نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ یہ طریقہ کار محفوظ بھی رہے گا ۔ کہا گیا ہے کہ چیکس کی تصاویر کوفون میں جمع نہیں رکھا جائیگا تاکہ فون چوری ہونے پر اس کا بیجا استعمال نہ ہونے پائے ۔