لندن۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانیہ عصمت ریزی کے واقعات کی بناء پر دنیا بھر میں پانچویں بلند ترین مقام پر ہے ۔لیکن 10میں سے صرف ایک زانی کو مجرم قرار دیا جاتا ہے ۔ ایک ہندوستانی کے تیار کردہ ویڈیو میں جو بی بی سی کے متنازعہ دستاویزی فلم کے جواب میں تیار کی گئی ہے اور جس کو ہندوستان میں تیار کیا گیا ہے ‘ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عصمت ریزی کے واقعات کے لحاظ سے برطانیہ دنیا بھر میں پانچویں مقام پر ہے ۔ لیزلی اڈون کی دستاویزی فلم ’’ دختر ہندوستان ‘‘ کا ایک انٹرویو جو اُس نے مکیش سنگھ سے لیا تھا جو دہلی کی ایک طالبہ کے 2012ء میں بے رحمانہ عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کے پانچ مجرموں میں سے ایک ہے ‘ نشر کیا گیا ہے ۔ اس پر ہندوستان بھر میں برہمی پھیل گئی تھی اور قوم پرستوں نے محسوس کیا تھا کہ اس سے ملک کی ساکھ کو دنیا بھر میں دھکہ پہنچے گا ۔ روزنامہ ’’ ٹیلی گراف‘‘ کی خبر کے بموجب ویڈیو بنانے والے ہرویندر سنگھ نے ’’ دختر برطانیہ ‘‘ نامی فلمرریلیز کردی ہے ‘ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنسی تشدد ایک عالمی مسئلہ ہے ‘صرف ہندوستان تک محدود نہیں اور برطانیہ عصمت ریزی کے واقعات کے اعتبار سے دنیا بھر میں پانچویں مقام پر ہے ۔ عصمت ریزی کے کئی واقعات کی شکایت تک درج کروائی نہیں جاتی ۔ اگر تمام شکایتیں درج کروائی جائیں تو برطانیہ کا مقام اور بھی اونچا ہوسکتا ہے ۔