نئی دہلی۔ 6؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ عالم انسانیت کی تاریخ کے سب سے بڑے انتخابات جو ہندوستان میں منعقد ہوئے تھے، اس پر پوری دُنیا کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی تاریخی کامیابی اور ان کے ہندوستان کے مستقبل کے لئے جرأت مندانہ منصوبے دُنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہندوستانی عوام نے ان کی حکومت کو تبدیلی اور اصلاح کا اختیار دیا ہے جس کی وجہ سے انقلابی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ برطانیہ ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کے لئے تیار ہے تاکہ وزیراعظم کے ترقی اور فروغ کے نظریہ کو عملی جامہ پہنا سکے جس سے تمام ہندوستانیوں کو فائدہ حاصل ہوگا اور قوم کے زبردست امکانی صلاحیتوں کا استعمال ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ برطانیہ اور وزیر خزانہ جاریہ ہفتہ ہندوستان کے دورے پر ہیں اور بحیثیت ٹیم دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں برطانوی قائدین نے کہا کہ برطانیہ کے ہندوستان کے ساتھ گہرے اور اہم تعلقات ہیں، لیکن یہ مزید مستحکم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے گزشتہ چار سال سے بنیادوں کو مستحکم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے 50 سے زیادہ وزارتی سطح کے ہندوستان کے دورے کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ ہندوستان کے ساتھ سفارتی نیٹ ورک مستحکم بنانا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرتے ہوئے اسے نئی طاقت دینا چاہتا ہے۔ یہ کوشش دونوں ممالک کے لئے ثمرآور ثابت ہورہی ہے۔ باہمی تجارت اب تقریباً 2009ء کی بہ نسبت 50 فیصد زیادہ ہوچکی ہے۔ برطانوی کمپنیاں ہندوستان میں سب سے بڑی سرمایہ کار ہیں اور گزشتہ چند سال سے ہندوستانیوں نے برطانیہ میں یوروپی یونین کے ممالک کی مجموعی سرمایہ کاری سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ برطانیہ جاریہ ہفتہ ہندوستان کا دورہ کررہے ہیں، کیونکہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے ساتھ اشتراک و تعاون کے ذریعہ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں، معاشی ترقی کے ان کے منصوبے کی تائید کرنا چاہتے ہیں اور عالمی سطح پر باہمی شراکت داری مستحکم کرنا چاہتے ہیں
جب کہ ہندوستان ایک وسیع تر تبدیلی کے پروگرام پر عمل کررہا ہے۔ وزرائے خارجہ و خزانہ برطانیہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ برطانیہ بھی اس کوشش میں شراکت داری کرسکتا ہے۔ سب سے پہلے باہمی تجارت و سرمایہ کاری میں مزید ترقی کے زبردست امکانات موجود ہیں۔ برطانوی کمپنیاں اب بھی ہندوستان میں سوئزرلینڈ کی بہ نسبت کم تجارت کررہی ہے، حالانکہ سوئزرلینڈ کا رقبہ ہندوستان کے رقبہ کا 150 گنا کم ہے۔ چنانچہ تبدیلی ضروری ہے۔ برطانوی معیشت میں تجارت کی نئی مہم جاری ہے۔ برطانیہ کسی بھی دوسرے مغربی ملک کی بہ نسبت زیادہ تیز رفتار ترقی کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ بڑے پیمانے پر برآمدات کی تائید کررہا ہے اور کاروباری ماحول زیادہ مسابقتی بنایا گیا ہے۔
برطانیہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی کمپنیاں برطانیہ آئیں اور ٹاٹا کی طرح اس کے نقشہ قدم پر چلیں۔ برطانیہ ہندوستان کی بین الاقوامی بازاروں تک رسائی میں مدد دینا چاہتا ہے تاکہ وہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرسکے۔ حکومت برطانیہ چاہتی ہے کہ برطانوی کمپنیاں لندن اولمپکس کے لئے انفراسٹرکچر تعمیر کریں۔ 100 نئے شہروں کی تعمیر میں وزیراعظم نریندر مودی کی منصوبہ بندی کی مدد کریں۔ برطانوی ٹرانسپورٹ کمپنیاں دنیا بھر میں قائدانہ موقف رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہندوستان میں نئی سڑکیں، ریلویز اور بندرگاہیں تعمیر کرنے میں مدد کریں۔ برطانیہ کا شعبۂ دفاع و فضائی و خلائی کمپنیاں ہندوستان کی زیادہ عصری ٹکنالوجی، مہارت اور ملازمتوں کے مواقع کے ذریعہ مدد کرنا چاہتی ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کو یقین ہے کہ ہمیں تعلیماتی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے دونوں ممالک کو نظریات اور مہارت کے باہمی تبادلہ کے ذریعہ فائدہ پہنچے گا۔
برطانوی طلبہ اور محققین کے باہمی رابطوں اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے دونوں ممالک کو فائدہ حاصل ہوگا۔ برطانیہ نے گزشتہ پانچ سال میں اپنے عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں تقریباً ایک لاکھ ہندوستانی طلبہ، ہزاروں محققین اور ماہرین تعلیمات کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانیہ کا موقف واضح ہے کہ ہندوستانی اہل طلبہ کی تعداد پر جو برطانوی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، کوئی تحدیدات عائد نہیں ہیں۔ گریجویٹ روزگار میں کام کرنے والوں کی تعداد پر بھی کوئی تحدید نہیں ہے۔ برطانیہ نے اب 5 کروڑ پونڈ نیوٹن فنڈ برائے مشترکہ تحقیق کے ذریعہ ہندوستان کے لئے مختص کئے ہیں تاکہ دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیالنجوں میں سے چند کا سامنا کیا جاسکے۔ مستقل آبی سربراہی سے لے کر قابل تجدید توانائی اور صحت عامہ کے شعبوں میں برطانیہ باہمی تعلیمی روابط کی تعمیر کے مواقع کا منتظر ہے۔
علاوہ ازیں برطانیہ چاہتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں اور ترقیاتی پالیسی میں دونوں ممالک کے تعاون کو مزید استحکام فراہم کیا جائے۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر مشترکہ مفادات میں اضافہ کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ سیاحت کے شعبہ سے لے کر تبدیلی ماحولیات کے شعبہ تک چیالنجوں سے نمٹنے کے لئے علاقائی استحکام پیدا کرسکتے ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ بیرون ملک ایک محفوظ ماحول تیار کیا جائے جس میں ہندوستان اپنی ترقی کے منصوبہ پر عمل آوری کرسکے۔ برطانیہ اپنی سفارتی اور دفاعی صلاحیتوں کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ناٹو اور یوروپی یونین کا مستقل رکن ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے مسائل کے حل تلاش کرنے میں مدد کرسکتا ہے جن سے دونوں ممالک متاثر ہورہے ہیں۔ حکومت برطانیہ کو عراق میں ہندوستانی شہریوں کے اغواء پر گہری فکرمندی ہے اور برطانیہ چاہتا ہے کہ ناقابل قیاس اور غیر مستحکم دنیا کے کئی چیالنجوں کی زیادہ قریبی تعاون کے ذریعہ یکسوئی کی جائے۔
ایسا کرنے کے لئے برطانیہ کو مدد دینے کے لئے حکومت برطانیہ چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی جائے اور ہندوستان کو اس میں ایک مستقل نشست فراہم کی جائے۔ برطانیہ کا گزشتہ چار سال سے ایک مستقل مقصد ہے۔ ہندوستان کے ساتھ طویل مدتی بنیاد پر تعلقات کا استحکام جاریہ ہفتہ دونوں ممالک کے شعبۂ تجارت کے قائدین، شہری معاشرے کے قائدین اور وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کے ساتھ ملاقاتوں میں اسی مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔ برطانیہ چاہتا ہے کہ پہلے ہی سے جو پیشرفت اس کی جانب سے کی جاچکی ہے تاکہ ہندوستان کی نئی حکومت کے واضح اور مستقبل کے لئے غیر مبہم منصوبوں کی تائید کی جائے اور خصوصی روابط پر تازہ زور دیا جائے تاکہ اکیسویں صدی میں دونوں ممالک کی شراکت داری ایک عظیم شراکت داری ثابت ہوسکے۔