برطانوی مسلمان داعش میں شامل نہ ہوں:معین علی

لندن ، 13ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے کرکٹر معین علی نے نوجوان برطانوی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ داعش میں شمولیت اختیار نہ کریں۔ 27 سالہ دیندار مسلم کرکٹر، جنہوں نے اس موسم گرما میں اسٹیٹ کرکٹ میں اپنی شاندار کارکردگی سے سب کے دل جیت لئے انھوں نے کہا کہ وہ شام کے معاملات پر مسلمانوں کی مایوسی کو سمجھتے ہیں۔ معین علی نے ہفنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں کہا کہ تقریباً 500 برطانوی مسلمانوں کا عراق اور شام جاکر داعش اور دوسرے گروپوں کے ساتھ ملکر لڑنا فکر کی کوئی بڑی بات نہیں ہے، لیکن اُن کا برطانوی مسلمانوں کو مشورہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ نہ جائیں۔ اس موسم گرما میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے باریش کرکٹر ہندوستان کے خلاف حالیہ تیسرے ٹسٹ کے دوسرے دن ’’غزہ کو بچاؤ‘‘ اور ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کے رِسٹ بینڈ پہننے پر مشکل میں پڑ گئے تھے۔ گزشتہ اتوار کو برمنگھم میں انگلینڈ اور ہندوستان کے درمیان منعقدہ ونڈے میچ میں ہندوستانی شائقین نے ان پر آوازیں کسی تھیں۔ معین نے کہا کہ بطور مسلمان ہمیں تحمل مزاج ہونا چاہئے۔ شام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہاں لوگ ایسی صورت حال میں ہیں جو تکلیف دہ ہے۔ شمالی عراق میں داعش کے عیسائیوں اور یزیدیوں پر مظالم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ اسلام نہیں ہے۔ اسلام اس طرز عمل کی مذمت کرتا ہے۔