9 اور 10 نومبر کو سینئر این آئی اے آفیسر کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم کا دورہ مقرر
نئی دہلی۔ 3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بردوان دھماکہ کی اپنی تحقیقات میں بہت کم پیشرفت کے بعد این آئی اے کی ایک ٹیم آئندہ ہفتہ بنگلہ دیش جائے گی تاکہ دہشت گرد گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) کی سرگرمیوں کے تعلق سے معلومات حاصل کی جاسکے جبکہ پڑوسی ملک میں گزشتہ ہفتے اس کے دو کارندوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ 2 اکٹوبر کے بردوان دھماکہ جس میں دو افراد ہلاک ہوئے، اُس کے کلیدی ملزمین مغربی بنگال پولیس کے ساتھ ساتھ قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) کو بھی چکمہ دے گئے اور سمجھا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کو فرار ہوچکے ہیں، سرکاری ذرائع نے یہ بات کہی۔ ذرائع نے کہا کہ این آئی اے ٹیم کا دورہ ابتدائی طور پر 9 اور 10 نومبر کو مقرر کیا گیا ہے اور انسپکٹر جنرل آف پولیس رتبہ کے ایک سینئر این آئی اے آفیسر اس کی قیادت کریں گے۔ این آئی اے کو اس دھماکہ میں جے ایم بی کی کارستانی کا شبہ ہے۔ اس نے اصل ملزمین کوثر، نصیر اللہ، ساجد (تمام بنگلہ دیشی شہری بتائے جاتے ہیں) اور طلحہ شیخ اور مولانا یوسف شیخ (مغربی بنگال کے ساکنان) جو تمام مفرور ہیںت اُن کیلئے 10 لاکھ روپئے کے کیاش ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ اس تحقیقات کے قریبی ذرائع نے کہا کہ اس گروپ کی جانب سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے تعلق سے ابھی کوئی قابل لحاظ ثبوت ہاتھ نہیں لگا جبکہ اس گروپ پر بنگلہ دیشی حکومت کے قائدین کو نشانہ بنانے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ 2 اکٹوبر کو دھماکہ بردوان کے کھگرا گڑھ کے ایک مکان کے اندرون پیش آیا جس میں مشتبہ دہشت گرد شکیل احمد برسرموقع مارا گیا جبکہ اس کا معاون سوان منڈل ہاسپٹل میں فوت ہوا۔