برازیل میں سیاحوں کی بس کو حادثہ ‘ 49ہلاک

دیوڈی جنیرو۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) سیاحوں کی ایک بس سینکڑوں میٹر گہری گھنے جنگلات کی وادی میں گرپڑی‘ جس سے کم از کم 49افراد ہلاک ہوگئے ۔ یہ علاقہ جنوبی برازیل میں واقع ہے ۔ عہدیداروں کے بموجب ہلاک ہونے والوں میں 8بچے اور 24خواتین شامل ہیں ۔ علاقائی حکومت کی ترجمان اینا پولا کلر نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد ابتداء میں 30 بتائی گئی تھی لیکن اس تعداد میں رات بھر اضافہ ہوتا رہا کیونکہ راحت رسانی اور بچاؤ کارکن رات بھر نعشیں برآمد کرتے رہے ۔ حلانکہ حادثہ کے مقام تک جو سینٹا کیٹرینہ اسٹیٹ میں ہے رسائی مشکل تھی ۔ دیگر متاثرین قریبی ہاسپٹل میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ بس 400میٹر ( 1300فٹ) گہری کھائی میں گرگئی تھی جہاں پر دبیزگھاس موجود تھی ۔ بچاؤ کارکنوں کوگرجانے والی بس تک پہنچنے کیلئے دھندلی روشنی اور دشوارگذار پہاڑی سلسلہ کی وجہ سے رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ بس میں 50مسافر تھے ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ مسافروں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہوسکتی ہے ۔

10افراد اسپتال میں شریک ہیں ۔ ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ حادثہ کا مقام ایک قابل دید سیاحتی مرکز کے قریب ہے ‘ جسے ڈونا فرانسیس کا پہاڑ کہا جاتا ہے ۔

یہ سیاحوں میں انتہائی مقبول ہے ۔ بس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک سیاحتی کمپنی کی تھی اور تقریباً 300کلومیٹر فاصلہ پر یونی آؤ ڈا وکٹوریا اور گاراٹوبا کے درمیان ساحلی علاقہ سینٹا کیٹرینہ میں سفر کررہی تھی ۔ عینی شاہدین کے بموجب مقامی اخبارات نے اطلاع دی ہے کہ شاہراہ کے موڑ والے علاقہ میں ڈرائیور بس پر قابو کھوبیٹھا ‘ تاہم حادثہ کی وجہ کے بارے میں ہنوز تحقیقات جاری ہے ۔ پہاڑی پر لوگ نہیں ہے ‘ بس میں اور اس کے ملبہ میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں لیکن کسی کے بھی زندہ بچ جانے کی امید بہت کم ہے ۔ ریاستی پولیس کے کرنل نیلسن کیلہو نے ایک بیان میں کہا کہ کئی ڈرائیورس لب سڑک رک کر متاثرین کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں ہنگامی خدمات کا رکنوں کی آمد کا انتظار کرنا پڑا ۔ اس پیچدار سڑک پر حادثہ عام بات ہے ۔ روزآنہ ’’او اسٹیڈو ‘‘ کے بموجب گذشتہ پانچ سال میں اس شاہراہ پر 66افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ 2007ء میں ایک ہی حادثہ میں 27 اور 1999ء کے حادثہ میں 35افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ سالانہ سڑک حادثوں میں 43ہزار برازیلی شہری ہلاک ہوتے ہیں ۔ 2002ء سے 2012ء تک سڑک حادثوں میں 24فیصد اضافہ ہوا ہے۔