لکھنؤ۔/21اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکمراں سماجوادی پارٹی نے اپوزیشن قائدین سے بدایوں ہلاکتوں پر پارٹی کی جانب سے انگلیاں اٹھانے پر ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے اور یہ کہتے ہوئے وضاحت کی کہ فارنسک رپورٹ میں صاف صاف تحریر کیا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کے ساتھ کوئی جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔ لہذا اتر پردیش حکومت کے خلاف ان کے پروپگنڈہ کی قلعی کھل گئی۔ سی بی آئی ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد کے سنٹر برائے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ اینڈ ڈائگناسٹکس (CDFD) نے متاثرہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کسی علامت کی نشاندہی نہیں کی تھی۔ جاریہ سال مئی میں ان لڑکیوں کی نعشیں درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں۔ ایس پی ترجمان راجندر چودھری نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں نائب صدر کانگریس راہول گاندھی، بی ایس پی سربراہ مایاوتی،
مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان، لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار کو ایس پی حکومت سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے کیونکہ سی ڈی ایف ڈی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوچکا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے کہا تھا کہ حیدرآباد کی فارنسک لیاب ملک کی اہم ترین اور بااعتماد لیاب تصور کی جاتی ہے جس نے اپنی رپورٹ کے ذریعہ متعدد شکوک و شبہات کو ختم کردیا ہے جس میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ لڑکیوں کے قتل سے قبل ان کی عصمت ریزی کی گئی تھی لہذا ان تمام وضاحتوں کے بعد لڑکیوں کے قتل میں اب شبہ افراد خاندان پر مرکوز ہوگیا ہے ۔ یاد رہے کہ جاریہ سال مئی کے آخری ہفتہ میں اُتر پردیش کے ضلع بدایوں میں 16اور 15سال کی دو کزنس بہنوں کی نعشیں درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں جس نے پورے ملک میں تہلکہ مچادیا تھا اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر اُتر پردیش کی یو پی حکومت کو زبردست تنقیدوں اور طنز و ملامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔