بدایوں سپرنٹنڈنٹ پولیس معطل ، 66 آئی اے ایس ، 42 پولیس عہدیداروں کے تبادلے

لکھنو ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بدایوں میں دو دلت رشتہ کی بہنوں کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف احتجاج اور تنقیدوں کے بعد اکھلیش یادو حکومت نے آج بدایوں کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو معطل کردیا ۔ اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 66 آئی اے ایس عہدیداروں اور 42 آئی پی ایس آفیسرس کے تبادلوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف سکریٹری الوک رنجن نے اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بدایوں واقعہ کے پیچھے پوشیدہ کئی حقائق کا انکشاف ہونا باقی ہے ۔ اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ ریاستی نظم و نسق فوری طور پر حرکت میں آجائے ۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بدایوں ( اتل سکسینہ ) کو معطل کردیا گیا ہے اور اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ( چندر پرکاش ) کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ نئے ڈی ایم نے دو دن قبل ہی جائزہ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایل آر کمار ایس پی ( لا اینڈ آرڈر ) ڈی جی پی ہیڈکوارٹرس کو ضلع بدایوں کا نیا ایس پی مقرر کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر اکھلیش یادو کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں اس طرح کے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں پرنسپل سکریٹری داخلہ دیپک سہگل اور ڈی جی پی اے ایل بنرجی بھی شریک تھے ۔ بدایوں اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے کیس میں نیا موڑ آیا ہے ۔ بنرجی نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق ایک متوفی لڑکی کی عصمت ریزی کی توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ اس ہلاکت کی اصل وجہ جائیداد کا جھگڑا بتائی جاتی ہے ۔ مرنے والی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اس لڑکی کا والد 3 بھائیوں میں سے ایک ہے جن کی ذرائع آمدنی بھی محدود ہے اگر یہ لڑکی زندہ نہ رہے تو اس کے والد کی جائیداد سے دیگر کو فائدہ ہوگا ۔ اس قتل کے پیچھے ایک مقصد اور منشا یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہی مقصد تھا بلکہ اس کے دیگر اسباب بھی ہوسکتے ہیں ۔۔