بحری جہاز ٹائٹینک کے حادثے کی وجہ چاند

لندن ، 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ کے سائنسدانوں نے اس مفروضے کو رد کر دیا ہے کہ بحری جہاز ٹائٹینک اس لئے ڈوبا کیونکہ وہ ایسے سال سفر پر روانہ ہوا جب شمالی بحراوقیانوس میں برف کے بہت زیادہ تودے موجود تھے۔ برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق ٹائٹینک بحری جہاز 102 سال قبل اپنے پہلے سفر کے دوران ڈوب گیا تھا۔ اس واقعے میں 1500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف شفیلڈ کے ’ویدر‘ نامی جریدہ میں شائع ہوئی ہے۔ برف کا وہ تودہ جس سے ٹائٹینک بحری جہاز ڈوبا تھا، اسے 14 اپریل 1912ء کی درمیانی رات کو دیکھا گیا جب وہ صرف 500 میٹر دور تھا

مگر اس وقت جہاز کو فوری طور پر روکنے کی کوشش ناکام ہوئی۔ بحری جہاز کا سو میٹر کے قریب حصہ پانی میں گر گیا اور پورا بحری جہاز ڈھائی گھنٹے میں ڈوب گیا۔ بحراوقیانوس میں زیادہ برف کی خبریں حادثے کے بعد سامنے آنا شروع ہوئی تھیں۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت امریکی حکام نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ نسبتاً گرم موسم کی وجہ سے برف کے زیادہ تودے موجود تھے۔ حادثے سے کچھ دن قبل تیز ہواؤں اور سمندری لہروں کی وجہ سے برف کے یہ تودے شمال کی جانب بڑھے جو پچھلے سال کی نسبت حیرت انگیز عمل تھا۔ اس تحقیق کے بعد سے محققین یہ جاننے کوشاں ہیں کہ شمالی بحر اوقیانوس میں حالیہ دیکھے جانے والے برف کے اس بڑے تودے کی وجہ کیا ہے۔ ایک امریکی تحقیقی گروپ کے مطابق یہ سمندری لہریں اس وقت زیادہ ہوتی ہیں جب چاند کا زمین سے فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ اور ان کے مطابق یہی ٹائٹینک کے حادثے کی وجہ بنی۔