بجٹ اجلاس کو واستو کے مطابق منعقد کرنے کی کوشش

دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا کے چیف منسٹرس توہم پرستی کا شکار
حیدرآباد۔/17فبروری، ( سیاست نیوز) واستو، توہم پرستی اور بدگمانی کا تعلق کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی قائدین میں عام رجحان کے طور پر موجود ہے۔ حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے واستو کے مطابق اقدامات کرنے کی خبریں عام ہوئی تھیں لیکن اس معاملہ میں چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے مسئلہ پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتیں واستو کے مطابق تاریخ کے تعین میں مصروف ہیں جس کے سبب حیدرآباد میں دونوں ریاستوں کے اسمبلی اجلاس کے بیک وقت انعقاد کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ دونوں ریاستوں کی اسمبلیوں کے بیک وقت اجلاس کی صورت میں عہدیداروں کو کئی ایک دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم واستو اور توہم پرستی ایسا عذر ہے کہ دونوں حکومتیں اس پر کوئی مفاہمت کرنے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا مارچ کے پہلے ہفتہ میں آغاز ہوگا۔ دونوں حکومتوں کے واستو ماہرین نے متعلقہ حکومتوں کو مشورہ دیا کہ بجٹ 12مارچ سے قبل پیش کردیا جائے کیونکہ 12مارچ کے بعد کی تاریخیں بدشگونی کی علامت ہیں۔ واستو کے ماہرین کی تجاویز پر چلنے والی دونوں حکومتیں اب اس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ کسی طرح ٹکراؤ کے بغیر دونوں اسمبلیوں کے اجلاس منعقد کئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 12مارچ کی دوپہر کے بعد کا وقت مبینہ طور پر نحوست کی علامت ہے لہذا حکومت کو اس سے قبل بجٹ پیش کردینا چاہیئے۔ چونکہ دونوں ریاستیں معاشی طور پر بحران کا شکار ہیں لہذا وہ بجٹ کی پیشکشی میں کوئی بھی خطرہ مول لینا نہیں چاہتیں۔ حکومتوں کا موقف اپنی جگہ تاہم عہدیدار دونوں اسمبلی کے بیک وقت اجلاس سے پیدا ہونے والی مشکلات کو لیکر پریشان ہیں۔ سیکورٹی انتظامات، پارکنگ کی سہولت اور اسمبلی کی لابی، چیمبرس اور باب الداخلوں میں یکسانیت کے سبب عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ دشواریوں ہوں گی۔ واضح رہے کہ دونوں ریاستوں کیلئے اسمبلی کی مشترکہ لابی ہے اور پارنگ کی جگہ بھی مشترک ہے۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کے داخلہ کا راستہ بھی تقریباً ایک ہی ہے۔ اسمبلی کے دنوں میں بڑی تعداد میں عہدیدار اور وزراء کا ماتحت عملہ لابی میں موجود ہوتا ہے لہذا عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ اس قدر بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی انتظامات میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ لابی میں موجود ایک حصہ کے چیمبرس تلنگانہ اور دوسرے حصہ میں موجود چیمبرس آندھرا پردیش کے وزراء کیلئے الاٹ کئے گئے ہیں۔کونسل میں بھی تقریباً یہی صورتحال ہے۔ واضح رہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد سے دونوں ریاستوں کی اسمبلیوں کے دو اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جو علحدہ علحدہ دنوں میں ہوئے۔ تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ سیشن نومبر میں ہوا جبکہ آندھرا پردیش اسمبلی کا اجلاس اگسٹ میں منعقد ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں حکومتیں 6تا 10مارچ کے دوران اسمبلی اجلاس کے آغاز پر غور کررہی ہیں توقع ہے کہ اس مسئلہ پر بہت جلد دونوں ریاستوں کے اسپیکرس کوڈیلا سیوا پرساد راؤ اور مدھو سدن چاری کے درمیان اجلاس منعقد ہوگا۔ تلنگانہ حکومت نے اگرچہ آندھرا پردیش کو تاریخ میں تبدیلی کیلئے باقاعدہ طور پر صلاح نہیں دی تاہم آندھرا پردیش حکومت کا ماننا ہے کہ بیک وقت اجلاس کے انعقاد سے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں حکومتیں بجٹ اجلاس کے آغاز کے سلسلہ میں واستو پر کس حد تک قائم رہ پائیں گی۔