نئی دہلی 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے ریل بجٹ کو بہتر مستقبل اور ترقی سے مربوط قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا اور عوام کو بہتر سلامتی و خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ بجٹ عام آدمی کے لئے ہے۔ اپوزیشن نے اِسے مایوس کن اور غیر منطقی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کے وسیع تر حصوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ جنتادل (یو) صدر شرد یادو نے بجٹ پر نکتہ چینی کی اور کہاکہ اِس میں کئی ریاستوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ بی ایس پی صدر مایاوتی نے کہاکہ ریل کرایوں میں کمی کی توقع تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کانگریس لیڈر اور سابق منسٹر آف اسٹیٹ ریلویز ادھیر رنجن چودھری نے ریلوے کو زیادہ سے زیادہ خانگیانے کا اندیشہ ظاہر کیا۔ سی پی آئی نے حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ مسافرین پر بوجھ عائد کررہی ہے۔ بی جے پی کی حلیف جماعتوں نے بھی بجٹ پر ناراضگی ظاہر کی۔ شیوسینا نے کہاکہ ممبئی کے توسیعی مضافاتی علاقوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ پی ایم کے نے بھی ناراضگی ظاہر کی۔ سی پی آئی (ایم) اور ترنمول کانگریس نے بھی بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ۔ ٹاملناڈو میں بی جے پی کی حلیف ڈی ایم ڈی کے اور ایم ڈی ایم کے نے محتاط ردعمل ظاہر کیا۔