مولانا غلام یحییٰ کی مولانا گلزار اعظمی سے ملاقات
ممبئی۔20 جون (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی حج ہاؤس کے امام مولانا غلام یحییٰ کو ممبئی ہائیکورٹ نے گذشتہ ہفتہ دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کردیا۔ انہوں نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر پہنچ کر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانامستقیم اعظمی، سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی ، ناظم نشرو اشاعت مولانا عارف عمری،لیگل ایڈوائزر ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری و دیگر سے ملاقات کرکے انہیں بروقت قانونی امداد دینے کے لیئے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا غلام یحییٰ نے اس موقع پرکہا کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورے ملک میں ان کی بدنامی ہوئی تھی اور انہیں ملازمت سے معطل بھی کردیا گیا تھا، اب جبکہ جمعیۃ علماء کی مدد سے انہیں دہشت گردی کے الزامات سے ممبئی ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا ہے ، ان کی خواہش ہے کہ انہیں ملازمت پر فوراً بحال کیا جائے اور ان کے بقایا جات ادا کیئے جائیں۔ مولانا غلام یحییٰ نے سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی سے گذارش کی کہ وہ حج کمیٹی سی ای او کو مکتوب روانہ کرکے انہیں ملازت پر بحال کرنے کی درخواست کریں۔گلزار اعظمی نے مولانا غلام یحییٰ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں تیقن دیا کہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوئی اور جسٹس کوتوال کے فیصلہ کی اصل نقول موصول ہوتے ہی اس بارے میں کارروائی کی جائے گی۔ مولانا غلام یحییٰ کے مقدمہ کے تعلق سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ 14 جون 2006ء کو مولانا کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں نچلی عدالت سے مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی ، اس دوران مولانا نے ساڑھے چار سال آرتھر روڈ جیل میں گذارے۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ نچلی عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود مولانا یحیٰ کی پریشانی میں اضافہ اس وقت ہوا جب ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے مولانا کو نچلی عدالت سے ملنے والی راحت کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
اس دوران مولانا کو ضمانتدار مہیا نہ کرانے کی صورت میں چار ماہ کے لیئے دوبارہ جیل میں جانا پڑا۔