مسجد کی دوبارہ تعمیر تک جدوجہد جاری رکھنے کا مشورہ ، دھرنا چوک پر مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔ /6 ڈسمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کو چاہئیے کہ وہ فوری طور پر بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کرواتے ہوئے مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت میں ملوث سنگھ پریوار کے شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے انہیں کفر و کردار تک پہنچائے تاکہ ملک کے مسلمانوں کے ساتھ انصاف روا رکھنے کے ساتھ ساتھ ملک کے جمہوری اقداری کی پامالی سے محفوظ رکھنے کے علاوہ ملک میں امن و امان کی برقراری کو یقینی بنایا جاسکے بصورت دیگر ملک کے مسلمان بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر تک ملک بھر میں اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار آج مسلم تنظیموں پر مشتمل جے اے سی جن میں وحدت اسلامی ، عوامی مجلس عمل ، تحریک خیر امت ، تحریک مسلم شبان اور تعمیر ملت شامل ہیں کہ زیراہتمام اندرا پارک پر بابری مسجد کی شہادت کے خلاف منعقدہ یوم سیاہ کے موقع پر منظم کردہ دھرنا پروگرام کو ناظم وحدت اسلامی مولانا نصیرالدین نے مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد کی شہادت سے نہ صرف ملک و دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے بلکہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک کی ساری دنیا میں نیک نامی متاثر ہوئی ہے اور کہا کہ بابری مسجد کی انہدامی سے نہ صرف ملک کے سیکولر ڈھانچے کو نقصان ہوا ہے بلکہ بابری مسجد کی شہادت سے ملک کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو صلب کرنے اور جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ملک کے تمام مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپس میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تاکہ حصول بابری مسجد کے مطالبہ میں شدت پیدا کرتے ہوئے بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے ۔ مسلمانوں میں بابری مسجد سانحہ سے متعلق شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ مولانا نصیرالدین نے بابری مسجد کی بازیابی کیلئے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلعم پر کامل یقین رکھیں ۔ انہوں نے ملت کے نوجوانوں سے توقع ظاہر کی کہ وہ ایک دن ضرور بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر میں اپنا اہم رول ادا کریں گے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کیلئے ضروری اقدامات کرے ۔ اس موقع پر صدر تحریک مسلم شبان مسٹر مشتاق ملک نے مخاطب کرتے ہوئے سنگھ پریوار کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت کی برسراقتدار کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بابری مسجد کی حفاظت میں بالکلیہ ناکام ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ملک کے مسلمان عدم تحفظ اور احساس کمتری کا شکار ہوگئے ۔ انہوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ اپنے آپ میں احساس کمتری کا احساس نہ کریں بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ بابری مسجد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ بابری مسجد کے مقام پر پہلے سے نہ کوئی مندر تھی نہ ہی وہ متنازعہ اراضی تھی بلکہ وہ غیر متنازعہ اراضی تھی جہاں پر مسجد تعمیر کی گئی تھی لیکن بعض مفاد پرست اور فرقہ پرست زعفرانی تنظیموں اور سیاسی مفاد پرست قائدین نے اپنی سیاسی مقصد براری کیلئے ’’بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی ‘‘ مسئلہ کو کھڑا کیا جس کے نتیجہ میں ملک میں ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسی مقام پر دوبارہ مسجد تعمیر ہو اور وہاں کی مسجد میں دی جانے والی اذاں سنو ۔ اس موقع پر عوامی مجلس عمل جناب منیرالدین مجاہد نے بابری مسجد کی شہادت پر اس وقت کے وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرے ۔ انہوں نے بابری مسجد رابطہ کمیٹی اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی میں پھوٹ پر اظہار تاسف کرتے ہوئے پی وی نرسمہا راؤ کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایک مرتبہ ضرور ایودھیا کا دورہ کریں ۔ اس موقع پر صدر ویلفیر پارٹی جناب ملک معتصم خان ، قومی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم لیگ و صدر ریاست تلنگانہ جناب عبدالستار مجاہد ، صدر ایم پی جے جناب حامد محمد خان ، کل ہند تعمیر ملت قائد جناب ولی الدین سکندر ، جناب مجاہد ہاشمی ، ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی ، مولانا حامد شطاری ، صدر مسلم ڈیولپمنٹ اسوسی ایشن مسٹر محمد اطہر احمد ، صدر تلنگانہ پرجا فرنٹ مسٹر مدی لیٹی ، نائب صدر ٹی پی ایف مسٹر سی پربھاکر ، جنرل سکریٹری ٹی پی ایف مسٹر این کرشنا نے بھی مخاطب کرتے ہوئے بابری مسجد کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بابری مسجد کی دوبارہ اس مقام پر تعمیر کرواتے ہوئے خاطیوں کو سخت سزا دے ۔