بابری مسجد شہادت کی 22 ویں برسی ‘ ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا

بابری مسجد کا مقدمہ قیامت تک چلتا رہیگا

دونوں فرقوں کے مذہبی اور سیاسی لیڈرس کو اپنے مفادات کی فکر

تنازعہ کا کوئی حل نہیں نکلے گا : ہاشم انصاری

فیض آباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بابری مسجد شہادت کی 22 ویں برسی کے موقع پر آج ہندوستان بھر میں مسلمانوں نے دعائیہ اجتماعات ، احتجاجی مظاہروں اور سیاہ پٹیوں کے ساتھ دھرنے دے کر اس سانحہ کی یاد منائی ۔ اس موقع پر بابری مسجد مقدمہ کے اصل فریق محمد ہاشم انصاری نے ایودھیا میں کہا کہ بابری مسجد کا مقدمہ قیامت تک چلتا رہے گا ۔ اس کا کوئی حل نہیں نکلے گا ۔ دونوں طبقوں کے سیاسی و مذہبی قائدین کو تنازعہ کی یکسوئی سے زیادہ اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں ۔ انہوں نے چند دن قبل یہ بیان دے کر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچائی تھی کہ وہ 65 سال سے مقدمہ لڑتے لرتے تھک چکے ہیں اور وہ اب بھگوان رام کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اب وہ اس مقدمہ کی مزید پیروی نہیں کریں گے ۔ انہوں نے بابری مسجد کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلانے کا مطالبہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ انصاف کریں گے ۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت حکومت آنے کی وجہ سے اس سال ملک بھر میں بابری مسجد کی برسی کے موقع پر ریالیوں اور احتجاجی مظاہروں کی خبروں کو بھی کوئی میڈیا نے اہمیت نہیں دی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشوا ہندوپریشد اور دیگر ہندو تنظیموں کی جانب سے ہر سال بابری مسجد شہادت کے موقع پر یوم شجاعت منایا جاتا ہے ۔ اس سال ہندو تنظیم آر ایس ایس کی ایما پر یہ جشن بھی مختصر منایا گیا ۔ تاہم کئی ریاستوں میں مختلف مسلم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا اور دوکانیں اور کاروباری ادارے بند رکھے گئے ۔ کئی تنظیموں نے مسجد کی شہادت کے خلاف بند کا بھی اعلان کیا تھا ۔ مختلف شہروں میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالتے ہوئے مسجد کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور بابری مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ ٹاملناڈو میں پولیس کی جانب سے ریاست بھر میں سخت چوکسی برتی گئی اور سکیوریٹی کے انتظامات کئے گئے ۔ ریاست میں یوم سیاہ کا اہتمام کیا گیا اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ مسلم تنظیموں جیسے ٹی ایم ایم کے ‘ پاپلر فرنٹ آف انڈیا اور ٹاملناڈو توحید جماعت کی جانب سے ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے یوم سیاہ کا اہتمام کیا گیا اور 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کی مذمت کی ۔ مسلم مظاہرین کی اکثریت نے سیاہ لباس ذیب تن کیا ہوا تھا اور انہوں نے مسجد کی شہادت کے خلاف نعرے لگائے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسجد کو اسی مقام پر منایا جائے ۔ علاوہ ازیں ٹاملناڈو میں ہندو تنظیموں نے بھی مظاہرے کئے اور مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا ۔ ہندو منانی نے ایک مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کے مقام پر مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے سکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے اور بھاری تعداد میں سکیوریٹی اہلکاروں کو متعین کردیا گیا تھا ۔ علاوہ ازیں ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں بھی مسلم تنظیموں کی جانب سے یوم سیاہ کا اہتمام کیا گیا اور مسجد کی شہادت کے خلاف بطور احتجاج بند منایا گیا ۔ ملک بھر میں اس احتجاج کے دوران کسی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ تمام ریاستوں میں حکومت کی جانب سے سکیوریٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ حساس مقامات پر اضافی پولیس دستوں کو متعین کیا گیا تھا اور سخت چوکسی برتی گئی تھی ۔ ایودھیا میں بھی ضلع انتظامیہ نے سکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے تھے ۔ یہاں بھی مسلم تنظیموں کی جانب سے بند اور یوم سیاہ کا اہتمام کیا گیا اور سیاہ جھنڈیاں لگائی گئیں جبکہ ہندو تنظیموں نے جشن منایا ۔ ایودھیا میں پولیس نے احتیاطی طور پر امتناعی احکام نافذ کردئے تھے اور اضافی پولیس دستوں کو متعین کیا گیا تھا۔
ایودھیا کے علاوہ فیض آباد میں بھی بڑے پیمانے پر سکیوریٹی کے انتظام کئے گئے ۔ شہر میں کئی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے علاوہ داخلہ پوائنٹس پر چیک پوسٹس قائم کئے گئے تھے ۔