بابری مسجد تنازعہ پھر موضوع بحث

لکھنؤ ۔18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد ۔ رام جنم بھومیتنازعہ پھر ایک بار اُترپردیش میں زیربحث ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے کافی کچھ سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بی جے پی کے سرکردہ قائدین نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، وہیں نومنتخب گورنر رام نائیک نے یہ توقع ظاہر کی کہ وزیراعظم نریندر مودی اس پیچیدہ مسئلہ پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اترپردیش میں گزشتہ ایک ماہ سے یہ مسئلہ مختلف فورمس میں اُٹھایا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ لکھنؤ میں آر ایس ایس کے سالانہ اجلاس میں نریندر مودی سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ متنازعہ ایودھیا مقام پر آئندہ پانچ سال میں ایک بڑی مندر تعمیر کروائیں۔ اس کے چند دن بعد وی ایچ پی نے بھی یہی مسئلہ اٹھایا اور پارٹی لیڈر پراوین توگاڑیہ نے کہا کہ ایودھیا میں ایک بڑا مندر بہرصورت تعمیر کیا جائے گا اور یہ ہندوؤں کی عزت اور عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ اس کے بعد وی ایچ پی کے ایودھیا کنوینر نے توقع ظاہر کی کہ اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ ہوجائے گا، تاہم گورنر رام نائیک نے گزشتہ ہفتہ ایودھیا کا دورہ کرکے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دونوں فریقین کو اعتماد میں لے کر اس مسئلہ کو حل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک وزیراعظم مودی تمام مسائل پر ہر طبقہ کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ انہیں یقین ہیکہ آئندہ 5 سال میں اس مسئلہ پر بھی توجہ دی جائیگی اور حل کرلیا جائے گا۔ کابینہ میں شامل نئے وزیر سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب فتح پور کے دورہ کے موقع پر کہا تھا کہ یہ تمام ہندوستانی عوام کی ذمہ داری ہے۔ اکھیلیش یادو کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے تاہم سنگھ پریوار پر ایک ایسے مسئلہ کو جسے برف دان کی نذر کردیا گیا، پھر موضوع بحث بنانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد یہاں ایک مندر بن چکا ہے، اب آخر وہ اور کیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟۔