آن لائن پر کالجس کی تفصیلات، کالجس کے ذمہ داروں کو رجوع ہونے کا مشورہ، کڈیم سری ہری ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد۔/18اپریل، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ ریاست کے انجینئرنگ کالجس میں معیار تعلیم اور سہولتوں کا جائزہ لینے کیلئے مختلف عہدیداروں کی ٹیموں نے کالجس کا معائنہ کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 288 انجینئرنگ کالجس سے متعلق تمام تفصیلات آن لائن فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معلومات کی بنیاد پر کالجس کے ذمہ داران حکومت سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ 288 انجینئرنگ کالجس کا پھر ایک بار سرکاری سطح پر معائنہ کیا جائے گا۔ اس معائنہ کے بعد تعلیمی سال 2015-16 میں داخلوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ ایک بھی طالب علم کا نقصان نہ ہو اور انجینئرنگ کی جاریہ تعلیم متاثر نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایک لاکھ 66ہزار انجینئرنگ کی نشستیں موجود ہیں اور کوالیفائی ہونے والے طلبہ کی تعداد کافی کم ہے۔ اس طرح نشستوں کی تعداد کوالیفائی ہونے والے طلبہ سے کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال انجینئرنگ کالجس میں بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہ گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ایمسیٹ کے ذریعہ انجینئرنگ میں کوالیفائی ہونے والے طلبہ کی تعداد سے دوگنی تعداد میں نشستیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالجس میں معیار تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لینے کے بعد ہی جے این ٹی یو کی جانب سے کالجس کو مسلمہ حیثیت جاری کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ نے یونیورسٹیز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا کونسل ٹیکنیکل ایجوکیشن کے قواعد کی تکمیل نہ کرنے والے کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کی عدالت نے بھی اجازت دی ہے۔ مسلمہ حیثیت ختم کرنے کا اختیار صرف یونیورسٹیز کو حاصل ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ طلبہ کا نقصان نہ ہو۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ کورس کے درمیان میں موجود طلبہ کی تعلیم کی تکمیل کے لئے حکومت اقدامات کرے گی۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ حکومت کی فیس بازادائیگی اسکیم طلبہ کیلئے ہے نہ کہ کالجس کے فائدہ کیلئے۔سابق میں اس طرح کی کئی شکایات وصول ہوئی تھیں کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کا کالجس کی جانب سے اپنے فائدہ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن 288کالجس کے معائنہ کے بعد تفصیلات آن لائن پیش کی گئی ہیں ان کالجس کے ذمہ داران کسی اعتراض کی صورت میں حکومت سے رجوع ہوسکتے ہیں۔