ای وی ایم مشینوں میں الٹ پھیر کے اندیشوں کو تقویت

نظام آباد کے بی جے پی امیدوار نے اپنا قفل لگانے کی اجازت طلب کی

حیدرآباد۔15 اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں ای وی ایم مشینوں میں الٹ پھیر سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے شبہات کو دن بہ دن تقویت مل رہی ہے۔ تلنگانہ میں رائے دہی کے دوسرے دن چیف الیکٹورل آفیسر نے اضافی فیصد کے ساتھ ہر حلقہ میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کردیا تو دوسری طرف آندھرا پردیش میں ووٹنگ مشینوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی تلگودیشم نے شکایت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں رائے شماری کے وقت کم از کم 50 فیصد وی وی پیاٹ سلپس کی گنتی کا مطالبہ کررہی ہے تاکہ نتائج میں کوئی الٹ پھیر نہ ہو۔ نیلور ضلع کے آتماکور میں وی وی پیاٹ سلپس کے پائے جانے کی اطلاعات نے اپوزیشن کے اندیشوں کو تقویت پہنچائی ہے۔ تلنگانہ میں بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ای وی ایم مشینوں کے تحفظ پر سوال ٹھائے جارہے ہیں۔ جن اسٹرانگ رومس میں مشینوں کو رکھا گیا ہے، ان کی نگرانی کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے اپنے قائدین کو مقرر کیا ہے اسی دوران حلقہ لوک سبھا نظام آباد کے بی جے پی امیدوار اروند دھرماپوری نے ضلع کلکٹر و ریٹرننگ آفیسر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اسٹرانگ روم پر ان کا شخصی قفل لگانے کی اجازت طلب کی ہے۔ اروند دھرماپوری نے اپنے مکتوب میں کہا کہ جہاں ای وی ایم مشینیں رکھی گئی ہیں، وہاں اسٹرانگ روم پر میرا قفل لگانے کی اجازت دی جائے تاکہ مشین اور وی وی پیاٹ کے محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جاسکے۔ اروند دھرما پوری نے یہ مکتوب 15 اپریل کو روانہ کیا لیکن ابھی تک ضلع حکام کی جانب سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔