حیدرآباد۔ 21 اپریل (پی ٹی آئی) شہر میں واقع سائنسی تحقیقی ادارہ سنٹر فار سیلیولر اینڈ مولیکیولر بیولوجی (سی سی ایم بی) کے ایک مطالعہ کے مطابق ہندوستانی آبادی میں جینیاتی اعتبار سے دیگر جینیات سے دوری اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے اور تال میل کا فقدان ایک ہی قبیلہ میں شادیوں کا رجحان عام ہے جو ملک کے مردوں میں بانجھ پن کی اصل وجہ ہوسکتی ہے۔ سی سی ایم بی کے مطابق دنیا بھر میں ہر سات جوڑوں میں اوسطاً ایک جوڑا بانجھ پن کا شکار ہوا کرتا ہے۔ ان میں مردوں کے بانجھ ہونے کا عنصر تقریباً 50% رہتا ہے۔ مردوں کے بانچھ ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں مادہ منویہ کا بالکلیہ طور پر ہی نہ ہوتا۔ مادہ منویہ کی کم پیداوار اور عدم تحریک رکاوٹ جو بالعموم علالت یا زخمیوں کے سبب ہوا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں امراض کہنہ کے مسائل، طرز زندگی وغیرہ بھی اہم کردار ادا کیا کرتے ہیں۔ سی سی ایم بی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اپنے ماہر سائنسداں کے تھنگاراج کی قیادت میں اس موضوع پر تحقیق کی تھی جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مردوں میں بانجھ پن کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔