نئی دہلی ؍ لکھنؤ۔ /26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) الزام عائد کررہی ہے کہ ایک خاص طبقہ کے لوگ لو جہاد میں ملوث ہیں ۔ جبکہ بی جے پی کے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کو آج کیمرے میں یہ کہتے ہوئے قید کرلیا گیا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو مشورہ دیا کہ ایک ہندو لڑکی کے عوض 100 مسلم لڑکیوں سے شادی کی جائے تاکہ ہندوؤں کا ریکارڈ بالاتر رہے ۔ انہوں نے اپنی شرانگیز تقریر میں کہا کہ گزشتہ مرتبہ اترپردیش ہائیکورٹ کے احکام نے مجھے حقیقت میں فکر مند کردیا تھا ۔ ہائیکورٹ نے احکام جاری کرتے ہوئے یہ سوال کیا تھا کہ آخر ہندو لڑکیاں مسلم لڑکوں میں دلچسپی کیوں رکھتی ہیں ۔ عدالت سے اس طرح کے واقعات کی تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی ۔ لیکن یو پی اے حکومت نے تحقیقات کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ گورکھپور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے عدالت کے احکام کو چیالنج کیا تھا۔ اس نے اپنی ایک اپیل میں نشاندہی کی تھی کہ گورکھپور میں مسلم لڑکیاں ہندو خاندانوں میں شادی کررہے ہیں ۔ہمیں اس روایات کو قبول کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہندو بننے کیلئے تیار ہے تو ہم اسے قبول کریں گے ۔ ہم اس شخص کو پوتر بنائیں گے ۔ اس کے بعد اس کا نیا مذہب شروع ہوجائے گا ۔
اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر کوئی ایک ہندو لڑکی اپنا مذہب تبدیل کرتی ہے تو اس کے جواب میں ہم نے 100 مسلم لڑکیوں کو ہندو بنانا ہوگا ۔ گورکھپور سے تعلق رکھنے والے اس رکن پارلیمنٹ کو ایک ویڈیو میں اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو نیوز چیانلوں نے ٹیلی کاسٹ کیا ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے زعفرانی بریگیڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ فضاء مکدر کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ بی جے پی ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس شرانگیز تقریر کی شدید مخالفت کی جارہی ہے ۔ اس پر بہت بڑا تنازعہ کھڑا ہوا ہے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ ویڈیو پرانا ہے ۔لو جہاد کے خلاف مہم چلانے والی زعفرانی پارٹیوں کے اہم قائدین کی لڑکیوں نے بھی مسلم نوجوانوں سے شادی کی ہے ۔اس میں قابل ذکر شاہنواز حسین ، مختار عباس نقوی شامل ہیں۔بال ٹھاکرے نے خود اپنی پوتری کی شادی ایک مسلم نوجوان ڈاکٹر سے کروائی تھی۔