ایک مزید قیدی کی پھانسی روک دی گئی ، نابالغ ہونے رشتہ داروں کا ادعا

اسلام آباد ۔ 19مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج موت کی سزا پانے والے قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید 4 قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکادیا جن میں دو بھائی بھی تھے تاہم ایک قیدی کی سزائے موت پر عمل آوری کو روک دیا گیا کیونکہ اُس کے رشتہ داروں نے ادعا کیا ہے کہ جس وقت قیدی نے جرم کا ارتکاب کیا تھا ، اُس کی عمر صرف 14 سال تھی اور اُسے مسلسل اذیتیں دیکر اعتراف جرم کروایا گیا تھا ۔ تین قیدیوں کو راولپنڈی کی آڈیالا جیل میں سزائے موت دی گئی جبکہ دیگر قیدی کو میانوالی جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ محمد اصغر اور غلام محمد دو بھائی تھے جن پر 1996 ء میں اپنے دو رشتہ داروں کو قتل کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا ۔ تیسرا فرد عبدالستار تھا جس نے شخصی مخاصمت کے تحت ایک شخص کو 1992ء میں قتل کردیا تھا ۔ اسطرح گزشتہ سال ڈسمبر میں طالبان کے ذریعہ پشاور کی ایک ملٹری اسکول پر حملے اور زائداز 150طلباء کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر امتناع کی برخاستگی کے بعد پھانسی پر لٹکائے جانے والے قیدیوں کی جملہ تعداد 54 ہوگئی ۔ آج صبح شفقت حسین نامی ایک قیدی کو پھانسی پر لٹکانے کی تیاریاں مکمل ہوگئی تھیں تاہم عین وقت پر اُس کی سزائے موت پر عمل آوری کو 72 گھنٹوں تک ملتوی کردیا گیا کیونکہ اُس کے رشتہ داروں کا یہ ادعا ہے کہ جس وقت جرم کا ارتکاب کیا گیا ، شفقت حسین ایک نابالغ شخص تھا ۔ شفقت حسین کو ایک سیشن عدالت نے ایک 7 سالہ لڑکے کے اغواء اور قتل کیلئے سزائے موت سنائی تھی ۔ دریں اثناء وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملک کے صدر کی جانب سے یہ احکامات ملے ہیں کہ پھانسی کی سزا پانے والے ایک قیدی کی سزا پر عمل آوری کو 72 گھنٹوں تک ملتوی کردیا جائے اور اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ آیا اُس کے رشتہ دار اُس کے نابالغ ہونے کا جو ادعا کررہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط ۔ وزیر داخلہ نثارعلی خان نے کہاکہ وہ حکومت سے شفقت حسین کی سزا پر عمل آوری کو 72 گھنٹوں تک روک دینے کی سفارش کریں گے کیونکہ اگر اُس کے رشتہ دار اُس کے نابالغ ہونے کے ثبوت کے طورپر کوئی دستاویز پیش کریں تو پھانسی کی سزا روکی جاسکتی ہے ۔