حیدرآباد۔24۔نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ ماہ میں ایک لاکھ سے زائد مخلوعہ جائیدادوں پر مرحلہ وار انداز میں تقررات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں نوجوانوں کو تقررات کی حد عمر میں پانچ سال رعایت دینے کا بھی اعلان کیا۔ اسمبلی میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں تقررات کے مسئلہ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت سرکاری مخلوعہ جائیدادوں کے علاوہ خانگی شعبہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ایک لاکھ 7744 مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی اور حکومت جلد ہی تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن تشکیل دے گی اور تقررات کے عمل کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے تلنگانہ کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملازمت کے سلسلہ میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا جو وعدہ کیا ہے ، اس پر بہر صورت عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تقسیم کا عمل باقی ہے، جس کے باعث مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمل ناتھن کمیٹی کی رپورٹ اور ملازمین کی تقسیم کے بعد مخلوعہ جائیدادوں کا صحیح اندازہ ہوگا۔چیف منسٹر نے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے سے متعلق حکومت کے وعدے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ تلنگانہ میں جملہ 25,000 کنٹراکٹ ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے چیف سکریٹری کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ابھی تک مختلف محکمہ جات میں 19,000 کنٹراکٹ ملازمین کی نشاندہی کی ہے۔ بہت جلد دیگر محکمہ جات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کمیٹی کنٹراکٹ ملازمین کی تعداد کا تعین کرے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ نئے تقررات یا پھر کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں روسٹر سسٹم اور دیگر تمام قواعد پر عمل کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں نئی صنعتوں کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے ۔ حکومت بہت جلد نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمتوں کے علاوہ خانگی شعبے جیسے انفارمیشن ٹکنالوجی ، فارماسیوٹیکلس اور دیگر صنعتوں میں بڑے پیمانہ پر روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ برقی ، آر ٹی سی ، سنگارینی کالریز اور مختلف کارپوریشنوں کی تقسیم کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت نئے تقررات کے عمل میں تیزی پیدا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1995 ء سے اب تک مختلف (DSC) تشکیل دیئے گئے لیکن تقررات مکمل نہیں کئے گئے ۔ حکومت ڈی ایس سی کے مطابق اساتذہ کے تقررات کے اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ اس صورتحال کیلئے ذمہ دار کون ہے ؟ سابقہ حکومتوںکی غلط پالیسیوں کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے چند ماہ مکمل ہوئے ہیں اور اس سے اس قدر طویل مدتی زیر التواء مسئلہ کی یکایک یکسوئی کی توقع کرنا مضحکہ خیز ہے۔ چیف منسٹر کے جواب کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے وضاحت کا موقع طلب کیا تاہم اسپیکر مدھو سدن چاری نے اجازت نہیں دی جس پر تلگو دیشم ارکان نے اپنا احتجاج درج کرایا۔