آگرہ ۔ 9 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ایک ذیلی تنظیم کے زیر اہتمام یہاں کنٹونمنٹ علاقہ میں منعقدہ ایک تقر یب میں 37 خاندانوں کے کم از کم 100 افراد کو مبینہ طور پر مذہب کی دوبارہ تبدیلی کے ذریعہ ہندو مت پر واپس لایا گیا۔ آر ایس ایس کے دھرم جاگرن سیل اور بجرنگ دل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ مشترکہ اجتماعی تبدیلی مذہب تقریب کا اہتمام کیا جہاں تقریباً ایک سو افراد جن میں زیادہ تر سلم بستیوں میں رہنے والے ہیں، کل اپنا مذہب پھر سے تبدیل کرتے ہوئے ہندو صف میں واپس آگئے جبکہ اس موقع پر ایک مذہبی رسم کے تحت ان کی کلائیوں پر مقدس دھاگے باندھے گئے اور ان کے پیشانیوں پر تلک کے نشان لگائے گئے۔ دھرم جاگرن سمانوے وبھاگ کے مقامی سربراہ راجیشور سنگھ نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد اپنی خوشی سے ہندو صفوں میں واپس ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مغربی بنگال کے ہیں اور 23 سال قبل یہاں آنے کے بعد سے سلم بستیوں میں رہتے ہیں۔ منتظمین نے بتایا کہ جس کمرہ میں یہ تقریب ہوئی اسے عارضی مندر میں تبدیل کیا گیا اور ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھی گئیں۔