ایک اور لڑکی کی نعش درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی

نئی دہلی ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مراد آباد ڈسٹرکٹ میں ایک 16 سالہ لڑکی کی نعش درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی جس کے ارکان خاندان کا کہنا ہے کہ لڑکی کی مبینہ عصمت دری کے بعد اس کا قتل کیا گیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ریاست یو پی میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اب سماج وادی پارٹی حکومت جس کی قیادت اکھیلیش یادو کررہے ہیں ، سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ۔ حالانکہ صرف 15 روز قبل بدایوں میں دو بہنوں کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ رونما ہوچکا ہے جن کی 27 مئی کو عصمت ریزی کی گئی تھی اور 28 مئی کو ان کی نعشیں درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں

جب کہ سانبھل نامی علاقہ میں صرف کچھ روز قبل ایک 14 سالہ لڑکی کی دو پولیس کانسٹبلوں نے اجتماعی عصمت ریزی کی تھی اور چہارشنبہ کو ایک خاتون کی نعش بھی بہرائچ میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی جب کہ بجنور میں ایک گنے کے کھیت سے ایک 14 سالہ لڑکی کی نعش برآمد ہوئی جس کے بعد شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور شہر جانے والے تمام راستوں پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا گیا تھا ۔ اس تازہ ترین واقعہ نے حکومت اترپردیش کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ جسے ہر جانب سے خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ پر تنقیدوں کا سامنا ہے ۔۔