ایودھیا فلاپ شو:مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی شعور کا مظہر

کیرانہ، 28نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) بابری مسجد کا سبق کے موضوع پر کل رات یہاں ایک مذاکرے میں ایودھیا میں حال ہی میں بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے پیش آنے والے چیلنجز اور اسی نزاع کے حوالے سے 1984-1992 کے درمیان ہندو تنظیموں کی جانب سے اٹھائی جانے والی رام مندر تحریک اور اس پر مسلمانوں کے الگ الگ رد عمل کا جائزہ لیا گیا۔لقرآن اکیڈمی کیرانہ میں منعقدہ مذاکرے میں اکیڈمی کے طلبہ نے شرکت کی۔ یہ اطلاع مفتی اطہر شمسی ڈائرکٹر القرآن اکیڈمی کیرانہ نے دی ہے ۔ مفتی شمسی کے افتتاحی خطاب کے بعد شہزاد خطیب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1984 – 1992 کے دوران پیش آمدہ چیلنج کا جواب مسلمانوں کی جانب سے نہایت جذباتی انداز میں دیا گیاتھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جانیں گئیں بیش قیمتی جائیداد یں برباد ہوئیں اور مسلمانوں کی ترقی ایک طرفہ طور پر رک گئی ۔گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے خالد بن سعود نے کہا کہ حال ہی میں رام مندر معاملے پرایک بار پھر ایودھیا میں مجمع لگایا گیا اور ملک کے ماحول کو گرمانے کی کوشش کی گئی ۔