آندھرا پردیش ارکان اسمبلی کے تربیتی پروگرام سے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کا خطاب، آداب و شائستگی برقرار رکھنے کی تلقین
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( پی ٹی آئی ) : لوک سبھا کی اسپیکر سمرتا مہاجن نے آج کہا کہ قانون سازوں ( ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی ) کو ایک مکمل اور وسیع تر نظریہ کا حامل رہنا چاہئے کیوں کہ وہ اپنے تمام متعلقین ( حلقہ کے عوام وغیرہ ) کے لیے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کے ارکان اسمبلی کے لیے منعقدہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر لوک سبھا نے کہا کہ ’ آپ صرف ان کے لیے جوابدہ نہیں ہیں جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا بلکہ ان کے لیے بھی جوابدہ ہیں جنہوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا ۔ چنانچہ آپ کا نظریہ ، آپ کی بصیرت اور کام 360 ڈگری کی طرح مکمل اور جامع ہونا چاہئے ۔ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ منتخب ہونے کے بعد آپ صرف ارکان مقننہ ہی نہیں رہ جاتے بلکہ آپ ان کے قائد بن جاتے ہیں ۔ جنہیں مختلف محاذوں پر قیادت کرنا پڑتا ہے ۔ واضح رہے کہ مابعد تقسیم آندھرا پردیش اسمبلی کے لیے منتخب 175 ارکان میں 100 سے زائد بالکل نئے ارکان ہیں جو پہلی مرتبہ قانون ساز ایوان میں پہونچے ہیں ۔ سمترا مہاجن 1989 سے لوک سبھا کے لیے مسلسل منتخب ہوتی رہی ہیں ۔ انہوں نے آندھرا پردیش اسمبلی کے ارکان اسمبلی کے لیے منعقدہ پروگرام کے دوسرے روز کلیدی خطبہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ عزت و احترام از خود حاصل کئے جاسکتے ہیں انہیں مطالبہ کے ذریعہ زبردستی حاصل نہیں کیا جاسکتا ‘ ۔ چنانچہ ارکان اسمبلی کو اخلاق ، تہذیب تمیز اور اقدار پر ثابت قدم رہنا چاہئے ۔ سمترا تائی نے کہا کہ قانون ساز کی حیثیت سے منتخب ہونا بلا شبہ عوامی خدمت کے لیے اعزاز و مراعات ہے لیکن اس کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی مربوط رہتی ہے ۔ ریاستی مقننہ اور پارلیمنٹ میں ضبط و تحمل کے ساتھ بحث مباحثہ پارلیمانی جمہوریت کی کامیابی کی کلید ہے ۔ لوک سبھا کی اسپیکر نے لیجسلیٹرس بالخصوص پہلی مرتبہ منتخب ہونے والوں سے کہا کہ وہ مختلف امور و مسائل کا بغور جامع مطالعہ کریں اور پوری تیاری کے ساتھ ایوان پہونچیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ آپ کے امور و مسائل کا چوکٹھا وسیع ہونا چاہئے ۔ آپ کو مختلف امور پر یکساں عبور رہنا چاہئے ۔ اور چند مخصوص شعبوں پر مہارت ہونا چاہئے ۔ نیز اپنے سینئیر ساتھی ارکان کو دیکھ کر بھی آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ‘ ۔ ہر کام قواعد اور ضوابط کے مطابق ہونا چاہئے ۔ کرسی صدارت کی بد احترامی دراصل ایوان کی توہین ہوگی ۔ ایوان کی شائستگی اور محفل کے آداب ملحوظ رکھنا کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ آندھرا پردیش اسمبلی کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے 98 ارکان کا حوالہ دیتے ہوئے سمترا مہاجن نے برجستہ کہا کہ ’ آپ ان تمام کو ( بحیثیت بہتر ارکان ) ڈھال سکتے ہیں کیوں کہ یہ منجھے ہوئے سیاستدان نہیں ہیں ۔ منجھے ہوئے سیاستدانوں کو بدلنا بہت دشوار ہوتا ہے ‘ ۔ اس پروگرام میں مرکزی وزیر اقلیتی بہبود نجمہ ہپت اللہ ، آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو ، قانون ساز کونسل کے چیرمین چکرا پانی ، اسمبلی کے اسپیکر کوڈیلا سیوا پرساد راؤ ، ڈپٹی اسپیکر منڈالی بدھا پرساد ، وزیر امور مقننہ وائی رام کرشنوڈو اور دوسروں نے شرکت کی ۔۔