اسپیکر اور ناتجربہ کار وزراء کو مشکلات، چیف منسٹر بے چین، کونسل اجلاس میں شرکت کی اپیل بھی ناکام ثابت ہوئی
حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں آج ایوان کی کارروائی کو چلانے کے سلسلہ میں برسراقتدار پارٹی کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کرسی صدارت پر نئے اسپیکر اور ناتجربہ کار وزراء کے سبب مقررہ وقت پر کارروائی ختم کرنے میں حکومت کو دشواری ہوئی اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو کئی مرحلوں پر کافی بے چین اور برہم دیکھا گیا۔ پروگرام کے مطابق چیف منسٹر کی جانب سے 9مختلف موضوعات پر قراردادوں کی منظوری کے بعد مختصر مباحث کے ذریعہ منظوری طئے کی گئی تھی کیونکہ 2بجے دن سے کونسل کے اجلاس کا آغاز ہونا تھا جہاں چیف منسٹر کی شرکت ضروری تھی۔ حکومت نے صدرنشین قانون ساز کونسل سے خواہش کی کہ وہ اجلاس کے آغاز میں تاخیر کریں تاکہ اسمبلی میں سرکاری کام کاج مکمل کرلیا جائے۔ تاہم پولاورم کے مسئلہ پر اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے تنازعہ کی شکل اختیار کرلی۔ چیف منسٹر بار بار وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ اور لیجسلیچر سکریٹری سدا رام کو ہدایت دے رہے تھے کہ جلد از جلد کارروائی ختم کرنے کی کوشش کریں۔ نومنتخب اسپیکر مدھوسدن چاری جو ایوان کی کارروائی چلانے کے سلسلہ میں کوئی تجربہ نہیں رکھتے انہیں بھی ارکان کو کنٹرول کرنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ وزیر اُمور مقننہ اور لیجسلیچر سکریٹری بار بار اسپیکر کے پاس پہنچ کر انہیں رہنمائی کررہے تھے یا پھر انہیں وقفہ وقفہ سے چٹھیاں روانہ کی جارہی تھیں۔ چندر شیکھر راؤ بار بار گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی ختم کرنے پر زور دے رہے تھے۔ انہوں نے قراردادوں کی پیشکشی سے قبل ایوان سے خواہش کی کہ وہ جلد منظوری کو یقینی بنائیں کیونکہ انہیں کونسل کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے قراردادیں پیش کرنا ہے۔ چیف منسٹر کی مرضی کے مطابق جب کارروائی کو ختم نہیں کیا جاسکا تو بارہا چیف منسٹر نے مداخلت کرتے ہوئے ایوان سے کہا کہ انہیں مباحث پر اعتراض نہیں لیکن قانون ساز کونسل میں ارکان قراردادوں کی پیشکشی کے منتظر ہیں، سینئر ارکان لنچ کئے بغیر موجود ہیں لہٰذا انہیں جلد جانے کی اجازت دی جائے۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کے جواب کے بعد اگر ارکان چاہیں تو شام تک بھی مباحث کو جاری رکھیں انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔ چیف منسٹر کی اس اپیل کا اپوزیشن پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ ان کے مزید ارکان کو اظہار خیال کا موقع دینے پر اٹل رہے۔ اسپیکر مدھوسدن چاری نے مباحث کو مختصر کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن انہیں دشواری ہورہی تھی۔آخر کار چیف منسٹر کی مداخلت کے بعد مدھوسدن چاری نے قراردادوں کو منظوری کیلئے پیش کردیا حالانکہ چیف منسٹر نے اپوزیشن ارکان کے سوالات کا جواب نہیں دیا تھا۔ اپوزیشن ارکان کے شوروغل کے دوران ہی اسپیکرنے ندائی ووٹ سے تمام قراردادوں کو منظوری دی اور ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیر فینانس ای راجندر اور وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ بار بار کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کے فلورلیڈرس سے ملاقات کرتے ہوئے کارروائی کے جلد اختتام میں تعاون کی خواہش کرتے دیکھے گئے۔