مہیشورم اسمبلی حلقہ سے عزیز پاشاہ کو کامیاب بنانے مولانا حامد حسین شطاری کی اپیل
حیدرآباد 18 اپریل (سیاست نیوز)کانگریس کی جانب سے جناب سید عزیز پاشاہ کے خلاف مفاہمت کے باوجود امیدوار میدان میں ہونے اور کانگریس کی جانب سے اس امیدوار کے خلاف کارروائی نہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ کانگریس مسلم نمائندگی کو ایوان میں گھٹانے کی سازش میں برابر کی ملوث ہے۔ مولانا سید حامد حسین شطاری نے آج اپنے ایک بیان میں حلقہ اسمبلی مہیشورم سے جناب سید عزیز پاشاہ کی کامیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے اتحاد کے باوجود کانگریس کے ایک سرکردہ قائد اس حلقہ اسمبلی سے میدان میں ہیں لیکن کانگریس کی ریاستی و مرکزی قیادت کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ 12 دیگر باغی امیدواروں کو پارٹی نے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ دور حاضر میں کانگریس اور بی جے پی ایک سکے کے دررخ ثابت ہورہے ہیں۔خود کانگریس میں صرف ان اقلیتی مسلم قائدین کو اہمیت حاصل ہوتی ہے جو مسلم دشمن نظریات کے حامل اپنے سیاسی آقاوؤں کو خوش رکھنے کا فن جانتے ہوں۔ مولانا نے اپنے بیان میں حلقہ اسمبلی مہیشورم سے جناب سید عزیز پاشاہ کی کامیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی میدان میں عزیز پاشاہ نے جس طرح اپنی دیانتداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے حلقہ مہیشورم کے رائے دہندوں کو مشورہ دیا کہ وہ نہ صرف بی جے پی ، ٹی ڈی پی اتحاد کو ہی نہیں بلکہ کانگریس کے پوشیدہ فرقہ پرست امیدواروں کو بھی شکست دیں چونکہ ان امیدواروں کے سیکولر ذہنیت کے حامل امیدواروں کو نقصان ہوسکتا ہے۔ مولانا شطاری نے بتایا کہ منظم سازش کے تحت مسٹر سیدعزیز پاشاہ کو حاصل ہونے والے مسلم و سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ان کوششوں کوناکام بنانا حلقہ مہیشورم کے رائے دہندوں کی ذمہ داری ہے اور انہیں یقین ہے کہ رائے دہندے اس ذمہ داری کو پورا کریں گے۔