ایوارڈس حوصلہ افزائی کا مؤثر ذریعہ

حیدرآباد 5 جنوری (سیاست نیوز) زندگی کے کسی بھی شعبہ میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈس دینے پر نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوتی خدمات کا اعتراف ہوتا بلکہ ان کے کام کرنے میں نیا جوش ولولہ پیدا ہوتا۔ اُردو کے عظیم شاعر علی سردار جعفری کو جب ملک کا ادب کا اعلیٰ ترین ایوارڈس گیان پیتھ ایوارڈ عطا کیا گیا تو سال 1997 ء میں اس ایوارڈ کے حصول کے بعد اُنھوں نے کئی اُردو کے تاریخ ساز خدمات انجام دی۔ ان خیالات کا اظہار یہاں اُردو گھر مغل پورہ میں بزم علم و ادب کی ایوارڈس تقریب کے جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے دانشوران اور پروفیسرس نے کیا۔ اُردو کی تاریخی ہستیوں کے نام سے ان ایوارڈس کو منسوب کیا گیا تھا جن میں علامہ اقبال، ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولوی عبدالحق، مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر زور، خورشید احمد جامی، نظیر علی عدیل شامل ہیں۔ یہ ایوارڈس جن کے ہاتھوں دیئے گئے ان میں جسٹس ای اسماعیل، ممتاز قانون داں جناب عثمان شہید، ڈاکٹر عقیل ہاشمی، پروفیسر مجید بیدار، ڈاکٹر فاروق شکیل کے ہاتھوں جن شعراء، ادباء اور اُردو تحریکات وابستہ شخصیات کو دیا گیا۔

ان میں محمد علی اثر، مسعود فاروقی، حفیظ انجم، ڈاکٹر ناظم علی، ایم اے حکیم ایڈوکیٹ، رحیم اللہ خاں نیازی، محسن جلگانوی، حمیدالظفر شامل ہیں۔ صدر بزم جناب نادر المسدوسی نے خیرمقدمی تقریر کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سات برسوں سے شہر اور اضلاع کے شعراء کو یہ ایوارڈس دیئے جارہے ہیں۔ یہ باوقار ایوارڈ ایک خوبصورت مومنٹو، توصیف نامہ، شال پر مشتمل تھا جس کو نہایت عمدگی کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ سکریٹری بزم حلیم بابر نے کارروائی چلائی۔ ممتاز شاعر سلیم عابدی کی نظامت میں مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ پروگرام کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری نے نعت پڑھی۔ مختلف انجمنوں کے ذمہ داران مضطر مجاز، مسعود فضلی، اسماعیل الرب انصاری، عارف الدین احمد اور دیگر شخصیات موجود تھے۔