نئی دہلی ۔ /10 جون (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے بعد آج پہلی مرتبہ کانگریس اور بی جے پی کے مابین لفظی تکرار دیکھی گئی ۔ کانگریس نے نریندر مودی کی مرضی ایجنڈے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تکبر سے گریز کرتے ہوئے وہ اپنا کام انجام دے ۔ اس کے جواب میں بی جے پی نے کہا کہ ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال کیلئے یو پی اے دور حکومت ذمہ دار ہے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ منموہن سنگھ حکومت نے ملک کی معیشت کو کمزور ، افراط زر کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ اور غربت کو بڑھادیا ۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور وزیراعظم نریندر مودی نے معیشت کو بہتر بنانے کا عزم کیا ہے ۔ ارون جیٹلی نے بحیثیت وزیر پہلی تقریر میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں اندیشوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رواداری اور غیرامتیازی طرز عمل اختیار کرے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔
انہوں نے نریندر مودی کے متعدد مرتبہ دہرائے جانے والے بیان کا اعادہ کیا کہ ملک کی ترقی کیلئے ریاستوں کی شراکت داری اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلالحاظ سیاسی وابستگی تمام ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور ان کے مسائل بھی حل کئے جائیں گے ۔ راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ این ڈی اے عوام کی غیرمعمولی توقعات کے ساتھ اقتدار پر آئی ہے اور حکومت کو اپنا عملی مظاہرہ پیش کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کا پیام بالکل واضح تھا کہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور برقرار رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے کو اس کے خراب مظاہرے کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل کیا گیا ۔ این ڈی اے نے مخالف حکومت رجحان اور بی جے پی بالخصوص مودی سے توقعات کے ساتھ اقتدار حاصل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی معاشی ترقی کو یقینی بنائے گی جو گزشتہ دو سال سے بری طرح متاثر ہے اور شرح ترقی کم ہو کر افسوسناک حد 5 فیصد تک پہونچ گئی ہے ۔ کانگریس جس کے لوک سبھا میں ارکان کی تعداد 40 تک محدود ہوگئی ہے صدرجمہوریہ کے خطبہ میں پیش کردہ ویژن کو یو پی اے ایجنڈے کی نقل قرار دیا اور حکومت سے کہا کہ وہ تکبر نہ کرے ۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ ایوان میں ارکان کی کم تعداد سے پارٹی کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ۔
وہ حکومت پر دباؤ برقرار رکھے گی کہ عوام سے مربوط پروگرامس پر عمل آوری یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ کم تعداد کی مثال چند پانڈوؤں کی طرح ہے جو مہابھارت میں 100 کورو سے بھی خوف زدہ نہیں ہوتے تھے ۔ ان کے اس بیان پر صدر کانگریس سونیا گاندھی کے بشمول دیگر ارکان نے میزیں تھپ تھپائیں۔ ملکارجن کھرگے نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پارٹی اقتدار پر واپس آئے گی اور این ڈی اے کو یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ وہ مستقل طور پر اقتدار پر فائز رہے گی ۔ ارون جیٹلی نے یو پی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں عوام نے ان پارٹیوں کو مسترد کردیا جو خاندانی وراثت ، خاندانی سیاست ، ذات پات اور ووٹ بینک کی سیاست پر انحصار کئے ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ انہیں بھی مسترد کردیا جو سیاسی موقعہ پرستی کا مظاہرہ کررہے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ کرپشن میں ڈوبی جماعتوں کو بھی عوام نے مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے 8.5 فیصد شرح ترقی بطور ورثہ یو پی اے کے حوالے کی جس نے اس ترقی کو معکوس کرتے ہوئے گزشتہ مسلسل دو سال کے دوران 5 فیصد تک کردیا ۔ انہوں نے یو پی اے دور میں مختلف اسکامس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سخت فیصلے کرنے سے قاصر تھے ۔
مباحث میں حصہ لیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا خطرہ انتہاپسندوں اور دہشت گرد طاقتوں سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان پر کنٹرول کیلئے اقدامات کرنے چاہئیے ۔ دیویندر گوڑ (تلگودیشم) نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کے بجائے پہلے یہ محاسبہ کرنا چاہیے کہ عوام نے اسے مسترد کیوں کیا ۔ این سی پی کے ڈی پی ترپھاٹی نے کہا کہ پہلی مرتبہ عوام نے نہ صرف یہ کہ ایک غریب خاندان کے فرد کو منتخب کیا بلکہ اسے وزیراعظم بھی بنایا جو ہندی میں بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اتریں ۔ شیوسینا کے سنجے راوت نے ممبئی کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا ۔ کے کویتا (ٹی آر ایس) نے شکایت کی کہ صدرجمہوریہ نے اپنے خطبہ میں نئی تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کو مبارکباد نہیں دی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی بدولت تلنگانہ ایک حقیقت بن سکا ۔ یہی نہیں بلکہ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بھی کئی مشکلات کے باوجود اس کاز کی تائید کی ۔ ٹی آر ایس رکن نے پولاورم پراجکٹ پر آرڈیننس جاری کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔