این آر آئیز کی مدد کیلئے علیحدہ وزارت کا قیام ضروری

مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ اور اردو کا فروغ ، ٹی آر ایس حکومت کا اہم مقصد : جناب محمود علی
خلیجی صنعتکاروں کی تلنگانہ میں سرمایہ کاری پر زور، عارف قریشی کی تہنیتی تقریب ، جناب زاہد علی خاں کا خطاب
حیدرآباد۔23اگست(سیاست نیوز) سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان اس ملک میںدلت اور دیگر پسماندہ طبقات سے زیادہ پریشان حال اور مصائب کاشکار ہیں ان حالات میںتلنگانہ ریاست کی تشکیل اور مابعد انتخابات ٹی آر ایس پارٹی کے اقتدار میں آنے کیساتھ ہی پارٹی منشور پر عمل آوری کی پہل کے طور پر تلنگانہ کے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور اعلانات سے تلنگانہ میںساٹھ سالوں سے انصاف کے منتظر مسلمانوں کے اندر ناانصافی کے خاتمہ کی امیدوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آج یہاں قدیم پریس کلب بشیر باغ میں منعقدہ تہنیتی تقریب سے صدراتی خطاب کے دوران مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔بزم عثمانیہ جدہ انڈین کلچر سوسائٹی کے صدر جناب عارف قریشی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے مہمانِ خصوصی کے طور پر ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کے علاوہ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اُردو اکیڈیمی حکومت تلنگانہ ‘ سابق سفیر ہند برائے سعودی عرب جناب کمال الدین احمد‘ سابق ڈائرکٹر وجنرل دوردرشن جناب منظور الامین کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی کارروائی اشرف ذیشان نے چلائی اور معروف گلوکار خان اطہر نے تقریب کے آغاز اور اختتام پر قومی ترانہ پیش کیا۔اس سے قبل جناب زاہدعلی خاں نے معروف این آر آئی عار ف قریشی کو تہنیت پیش کرتے ہوئے شال اڑھائی اور جناب محمد محمود علی کے ہاتھوں مومنٹو پیش کیاگیا۔ جناب زاہدعلی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے تلنگانہ کے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے کئے جارہے اعلانات کی ستائش کی اور کہاکہ مذکورہ اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے تاکہ پچھلے ساٹھ سال سے مصائب زدہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی لائی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ پانچ لاکھ سے زائد خاندان کا شمار غیر مقیم ہندوستانی( این آر ائیز) میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست کی ویب سائیٹ سیاست ڈاٹ کام پرہرروز 18 لاکھ لوگ مشاہدہ کرتے ہیںجن میںسے ایک لاکھ سے زائد ویزیٹرس کا تعلق سعودی عرب کے شہر ریاض سے ہے جو سعودی عربیہ میں غیرمقیم ہندوستانیوں کی حقیقی تعداد کا جائزہ لینے میںمعاون بھی ثابت ہوگا۔انہوں نے کہاکہ خلیج میں مقیم تلنگانہ کے غیر مقیم ہندوستانی اپنے وطن عزیز سے اس قدر محبت کرتے ہیںکہ وہ ہرسال اپنے خاندانوں ، دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملنے کے لئے چھٹی لیکرسرزمین تلنگانہ سے اپنی اٹوٹ وابستگی اور محبت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔جناب زاہد علی خاں نے جناب محمد محمود علی کی موجودگی میںتلنگانہ حکومت کو تلنگانہ کے غیر مقیم ہندوستانی بالخصوص خلیجی ممالک میں برسرروزگار تلنگانہ کے باشندوں کو درپیش مسائل کے حل کے متعلق سنجیدگی اختیار کرنے کا مشور ہ دیا ۔(سلسلہ صفحہ 14 پر)
این آر آئیز کی مدد کیلئے علیحدہ وزارت کا قیام ضروری
انہوں نے کہاکہ حکومت کیرالا کے طرز پر تلنگانہ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ تلنگانہ میںاین آر ائیز وزرات اور محکمہ متعارف کروائے تاکہ سنگاپور کی طرح خلیجی ممالک کے سرمائے داروں کو بھی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ اس سے نہ صرف خلیجی ممالک سے سرمایہ کار ی کی راہیں ہموار ہونگی بلکہ خلیجی ممالک میں کام کررہے تلنگانہ کے غیر مقیم ہندوستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کے متعلق موثر انداز میںنمائندگیوں کو بھی تلنگانہ حکومت کو موقع مل سکے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک میںمقیم تلنگانہ کے باشندوں سے مسائل سے واقفیت حاصل کرنے اور سرمایہ کاری کے لئے وہاں کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے ایک پراثر وفد حکومت تلنگانہ کی جانب سے خلیجی ممالک روانہ کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔جناب زاہد علی خان نے سعودی عربیہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات کو دیگر عرب ممالک سے تلنگانہ میںسرمایہ کاری کو تلنگانہ کے مسلمانوں کے لئے بھی فائدہ مند قراردیا ۔انہوں نے پچھلے 38سالوں سے سعودی عربیہ میںہندوستانیوں بالخصوص تلنگانہ کا نام روشن کرنے والے عارف قریشی کو اس موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔جناب محمد محمود علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یقینا تلنگانہ حکومت جناب زاہد علی خان کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ میںاین آر ائی وزارت کو متعارف کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ہی ہم اپنی سرزمین پر زندگی گذار رہے ہیںانہوں نے کہاکہ ہم اب تک آندھرائیوں کے رحم وکرم پر جی رہے تھے جبکہ ہم یہاں کے حقیقی باشندے ہیں۔ جناب محمد محمو دعلی نے کہاکہ تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کا مقصد ہی پسماندگی شکار طبقات کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے کے احکامات کے علاوہ سرکاری دفاتر میںاُردو کے چلن کو عام کرنے کی ہدایت اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں دفاتر اور دوکانات کے بورڈس پر اُردو کو شامل کرنے کے لئے سخت اقدامات بھی حکومت کی جانب سے اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے اُردو کی ترقی اور ترویج کے لئے حکومت کو نہایت سنجیدہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہر طبقہ اور مذہب سے تعلق رکھنے والے قائدین اپنی برادری کی ترقی کے لئے کام کرتے ہیںاسی طرح میںبھی ایک سکیولر ذہنیت کا حامل خدمت گذار ہوں جو اپنی قوم کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میںمسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ہر شہری کے لئے لازمی تعلیم قانون پر سختی سے کام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہر پولیس اسٹیشن میںتین کے بجائے چار سب انسپکٹرس مقرر کئے جائیںگے تاکہ ایک انسپکٹر پولیس اسٹیشن کے حدود میںپیش آنے والے سماجی مسائل کا جائزہ لے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر مسلمان بچے کو اسکول بھیجنے کے علاوہ مذکورہ خاندان کے معاشی مسائل سے واقفیت حاصل کرنا اور حکومت تک انہیںپہنچانے کی ذمہ داری اس چوتھے سب انسپکٹر پر عائد ہوگی۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں تقررات کے وقت ریاست کے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے تاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی مسائل کو بھی حل کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ مسلم سرمایہ دار تو تلنگانہ میںبہت ہیں مگر غریب مسلمانوں کے تئیں ان کے اندر جذبہ ہمدردی سے محرومی مسلمانوں کے معاشی اور تعلیمی پسماندگی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے علاوہ دولت مند مسلمانو ںپر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ اقلیتوں کے نام پر بڑے بڑے تعلیمی ادارے تو قائم کرلئے مگر کسی مستحق کے لئے ان سے سفارش کرنے پر ادارے کے منتظمین اس مسلئے پر بات نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جناب محمد محمود علی نے کہاکہ اگر مستحق مسلمانوں کے متعلق بات نہیںکی جائے تو کیا مذکورہ اداروں کے مالکین کے اثاثہ جات اور آمدنی کے متعلق بات کرنی چاہئے۔انہوں نے مسلم سرمایہ داروں کے رویہ میں تبدیلی کو بھی ضروری قراردیا ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے شادیوں کے لئے جاری کردہ 51ہزار روپئے کی مالی امداد کا بھی اس موقع پر ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے میری اولین ترجیحات میں میری قوم کی بے مثال ترقی ہے ۔