ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول

بھارت بند کی تائید میں خانگی اسکولس و کالجس بھی شامل ، حکومت کے خلاف شدید برہمی کا اظہار
حیدرآباد۔10ستمبر(سیاست نیوز) ایندھن کی قیمتو ںمیں ہونے والے بے تحاشہ اضافہ کے خلاف دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بیشتر خانگی اسکولوں و کالجس نے بھی بھر پور حصہ لیتے ہوئے بند کو کامیاب بنایا۔ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی گئی ’’بھارت بند‘‘ کی اپیل میں دونوں شہروں کے بجٹ اسکولوں کے علاوہ سرکردہ اسکولوں نے بھی بند میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کے خلاف اپنے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی جانے والی بند کی اپیلوں سے خود کو دور رکھنے والے تعلیمی اداروں نے بھی اس بند کو کامیاب بنانے میں اپنا کلیدی رول ادا کیا اور شہر میں جو اسکول کھلے رکھے گئے گئے تھے ان اسکولوں میں بھی حاضری بہت کم ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجہ میں کئی اسکولوں کو دوپہر میں ہی چھٹی دیدی گئی۔ ملک میں پٹرول ‘ ڈیزل اور گیاس کی قیمتوں میں ہونے والے بے دریغ اضافہ کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف کئے گئے بھارت بند میں تعلیمی اداروں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بند میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ ٹی آر ایس ایم اے نے بند میں حصہ لیتے ہوئے تمام خانگی اسکولوں سے بھارت بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی کے سبب ملک بھر میں عوام کے ہر طبقہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرنا ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ مسٹر ایس سرینواس ریڈی ‘ مسٹر یادگیری شیکھر راؤ ‘ مسٹر کے بھوپال راؤ ‘ جناب سید آصف اور دیگر نے گذشتہ یوم تلنگانہ ریکگنائزڈ اسکولس مینجمنٹ اسوسیشن (ٹی آر ایس ایم اے )کی جانب سے بیان جاری کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتو ں میں مختصر مدت کے دوران ناقابل قبول اضافہ کے خلاف بند کی تائید کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں خانگی اسکول بند رکھیں جائیں گے۔ جناب سید آصف نے بتایا کہ پٹرول اور ڈیز ل کی قیمتو ںمیں ہونے والے اضافہ کا اثرملک کے تمام طبقات پر ہونے لگا ہے اور ان حالات میں حکومت کے خلاف احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے اسی لئے اسکولوں نے بھی بند کی تائید کا فیصلہ کیا تھا اور تعلیمی اداروں کا بند مکمل اور کامیاب رہا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی و ریاستی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف منائے گئے اس بند کو اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین اور سرپرستوں کی بھی مکمل تائید حاصل رہی کیونکہ یہ مسئلہ صرف اسکولوں یا طلبہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔